رسائی کے لنکس

صدر زرداری کی پانچ سالہ مدت صدارت مکمل


آصف زرداری ایوان صدر سے رخصت ہوتے ہوئے

آصف زرداری ایوان صدر سے رخصت ہوتے ہوئے

پاکستان کی 66 سالہ تاریخ میں وہ پہلے منتخب صدر ہیں جو یہ آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد ایک اور جمہوری طریقے سے منتخب صدر کو یہ عہدہ سونپ رہے ہیں۔

آصف علی زرداری اتوار کو اپنی پانچ سالہ آئینی مدت کے مکمل ہوتے ہی سربراہ مملکت کے عہدے سے سکبدش ہوگئے جو کہ مبصرین کے مطابق ملکی تاریخ میں فوج کی بار بار مداخلت سے پیدا ہونے والے سیاسی عدم استحکام کے پیش نظر بہت اہمیت کا حامل ہے۔

پاکستان کی 66 سالہ تاریخ میں وہ پہلے منتخب صدر ہیں جو یہ آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد ایک اور جمہوری طریقے سے منتخب صدر کو یہ عہدہ سونپ رہے ہیں۔

اسلام آباد میں صدر کی سرکاری رہائش گاہ پر ہونے والی ایک تقریب میں انہیں افواج پاکستان کے چاق و چو بند دستوں نے گارڈ آف آنر پیش کیا جس کے بعد آصف زرداری اپنی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک اجلاس کے لیے لاہور روانہ ہوگئے۔

مبصرین آصف زرداری کے دور کو سیاسی اور سلامتی کے امور کے اعتبار سے بہت پیچیدہ گردانتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ کسی منتخب صدر کی اپنے عہدے کی آئینی مدت مکمل کرنا اور ایک دوسرے منتخب صدر کی ان کی جگہ لینا ملک میں جمہوریت کے استحکام کی جانب ایک اور قدم ہے۔

2007ء میں سابق وزیراعظم اور اپنی اہلیہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد آصف زرداری پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین مقرر ہوئے اور 2008ء کے انتخابات کے نتیجے میں ان کی جماعت کی حکومت بنی۔


ستمبر 2008ء میں ملک کے صدر منتخب ہونے کے بعد مبصرین کے بقول آصف زرداری نے ایوان صدر میں سیاسی اور سلامتی کے اعتبار سے مشکل ترین دور گزارا جہاں ایک طرف انہیں جمہوری نظام برقرار رکھنے کے لیے سیاسی مفاہمت کی پالیسی پر کاربند رہنا پڑا تو وہیں ’’تحکمانہ اور جارحانہ‘‘ عدلیہ کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

سینئیر صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کہتے ہیں کہ آصف زرداری کا دور دستور اور سیاسی استحکام سے متعلق اقدامات کے اعتبار سے کامیاب دور تھا جس میں انہوں نے قومی مفاہمت کے ذریعے سیاسی قوتوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی۔

’’کوئی شخص نہیں کہتا تھا کہ زرداری صاحب پانچ سال پورے کریں گے۔ بڑے بڑے دانشور اور تجزیہ نگار کہتے تھے کہ اب واردات ہوئی کے اب ہوئی۔ اب انہیں کسی نے دھکا دیا کہ دیا۔ لیکن یہ پانچ سال گزر گئے اور یہ گزارنا بھی کامیابی ہے۔‘‘


سرکاری ریڈیو کے مطابق ہفتے کو اسلام آباد میں ایوان صدر کے عملے کو دئیے جانے والے عشایئے میں آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ان کے لیے ’’عزت و وقار‘‘ کے ساتھ سبکدوش ہونا باعث مسرت ہے۔


’’میں نے ہمیشہ ملکی مفاد کے مطابق فیصلے کئے۔ میں نے رضاکارانہ طور پر اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کئے۔‘‘


پاکستان پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت میں پارلیمان میں چند آئینی ترامیم کی ذریعے پہلی مرتبہ صدر مملکت نے کسی حکومت کو بر طرف کرنے کے اپنے اختیارات پارلیمان کو دے دیے تھے۔

مخالفین اور چند مخصوص مقامی ذرائع ابلاغ کے اداروں کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آصف علی زرداری پر الزامات بھی لگائے گئے کہ وہ عدلیہ بالخصوص سپریم کورٹ کے خلاف سازشوں میں ملوث ہیں۔

تاہم سبکدوش ہونے والے صدر کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب میں ان کے سیاسی مخالف وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کی ’’خوش دلانہ مرضی کے ساتھ‘‘ 1973 کے آئین کی بحالی دیر تک یاد رکھی جائے گی۔

’’مجھے کھلے دل سے ماننا چاہئے کہ زرداری صاحب نے سیاست میں گرم جوش، ذاتی تعلق، اپنائیت اور سماجی رشتوں کو نہایت عمدگی سے رواج دیا۔ ہماری اتفاق رائے سے آئینی ترامیم کی رویات کو زرداری صاحب نے بڑی حکمت و دانائی کے ساتھ اسے جاری رکھا۔‘‘

پاکستان پیپلز پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنے اور پھر 2008 میں صدارت کے منصب پر فائز ہونے والے آصف علی زرداری اپنے اس تجربے کے بارے میں کہتے ہیں۔

’’اپنی ہر کمزوری اور اپنے غم کو طاقت بنا کر میں نے کوشش کی کہ پاکستان کی خدمت کروں۔ بلوچستان پیکج یا صوبہ خیبر پختونخواہ نام رکھنے سے مسائل ختم نہیں ہوئے مگر ان کا آغاز ہوا ہے۔ جب ان کے آہستہ آہستہ فوائد عوام کو حاصل ہوں گے تو انہیں ہم سے توڑنا مشکل ہو جائے گا۔‘‘

آصف زرداری کہہ چکے ہیں کہ منصب صدارت سے فارغ ہونے کے بعد ان کی توجہ کا مرکز پاکستان پیپلز پارٹی کے امور کو بہتر انداز میں چلانا ہوگا اور پارٹی کے حکام کے مطابق اس مہم کا آغاز وہ اپنے سیاسی مخالف نواز شریف کے مضبوط گڑھ لاہور سے کریں گے۔

نو منتخب صد ر ممنون حسین پیر کو ملک کے بارھویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔
XS
SM
MD
LG