رسائی کے لنکس

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور بھارت کے وزیرِ اعظم منموہن سنگھ نے دو طرفہ تعلقات میں بہتری لانے اور تنازعات کو مذاکرات کی میز پر حل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان علیحدگی میں ہونے والی یہ ملاقات اتوار کو نئی دہلی میں بھارتی وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ پر ہوئی جو چالیس منٹ تک جاری رہی۔

بات چیت کے بعد پاکستانی صدرکے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے من موہن سنگھ نے کہا کہ ملاقات میں ’’تمام دوطرفہ اُمور پر دوستانہ انداز میں تبادلہ خیال کیا گیا‘‘ جس کے نتائج سے وہ ’’بہت مطمئن‘‘ ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ دونوں ممالک دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کے خواہاں ہیں۔

’’ہمارے درمیان متعدد (تصفیہ طلب) معاملات ہیں اور ہم ان سب کا قابل عمل حل تلاش کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ یہی وہ پیغام ہے جو صدر زرداری اور میں دینا چاہتے ہیں۔‘‘

بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ مسٹر زرداری نے اُنھیں اسلام آباد کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی ہے جس کی تاریخ دونوں ممالک باہمی رضامندی سے طے کریں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کا دورہ کرکے انھیں خوشی ہو گی۔

صدر زرداری نے اس موقع پراظہار خیال کرتے ہوئے من موہن سنگھ کے ساتھ دوطرفہ اُمور پربات چیت کو نتیجہ خیزقرار دیا۔

’’ہم بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے کے خواہاں ہیں۔ ہم نے جس قدر ممکن ہوسکا تمام موضوعات پرگفتگو کی ہے اوراُمید ہے کہ بہت جلد ہم پاکستانی سرزمین پرملاقات کریں گے۔‘‘

ملاقات کے بعد بھارتی خارجہ سیکرٹری نے صحافیوں کو بتایا کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ نے صدر زرداری کو اُن امدادی سرگرمیوں میں تعاون کی پیشکش بھی کی ہے جو ہفتہ کی صبح سیاچن پر برف کے نیچے دب جانے والے پاکستانی فوجیوں کونکالنے کے لیے کی جارہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی صدر نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا مگر اُن کی پیشکش کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اتوار کو نجی دورے پر بھارت پہنچے اور مسٹر سنگھ کی طرف سے دیے گئے ظہرانے میں شرکت کے بعد اپنے 40 رکنی وفد کے ہمراہ مغربی ریاست راجھستان کے شہر اجمیر میں صوفی بزرگ خواجہ معین الدین چشتی کے مزار پر حاضری دی۔

اس موقع پر دعا کرنے کے بعد اُنھوں نے درگاہ کی توسیع کے لیے 10 لاکھ ڈالر دینے کا اعلان بھی کیا۔

صدر زرداری کے وفد میں اُن کے بیٹے اور حکمران پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو، وزیر داخلہ رحمٰن ملک اور خارجہ سیکرٹری جلیل عباس جیلانی بھی شامل ہیں۔

گزشتہ سات برسوں میں کسی پاکستانی سربراہِ مملکت کا بھارت کا یہ پہلا دورہ ہے، اور مسٹر زرداری کے بیٹے بلاول بھٹو سمیت خاندان کے 25 دیگر افراد بھی صدر زرداری کے وفد میں شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG