رسائی کے لنکس

پشاور پریس کلب میں امریکی حکومت کے تعاون سے سکیورٹی نظام کی تعمیر

  • شمیم شاہد

پشاور پریس کلب میں امریکی حکومت کے تعاون سے سکیورٹی نظام کی تعمیر

پشاور پریس کلب میں امریکی حکومت کے تعاون سے سکیورٹی نظام کی تعمیر

امریکی حکومت کی مالی مدد سے پشاور پریس کلب سے منسلک صحافیوں اور اخباری صنعت سے وابستہ کارکنوں کے تحفظ کے لیے سکیورٹی سسٹم کی تعمیر مکمل ہوئی۔

اتوار کے روز پشاور میں متعین امریکی کونسل جنرل مس الزبتھ روڈاور خیبر پختون خواہ کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے تقریباََ 70لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی عمارت کا افتتاح کیا۔

امریکی حکومت نے پشاو ر پریس کلب کی انتظامیہ کی اپیل پر بم پروف عمارت کی تعمیر کا فیصلہ گذشتہ سال 22دسمبر کو ہونے والے خود کش حملے کے بعد کیا ۔اس خود کش حملے میں پریس کلب کی حفاظت پر مامور پولیس حوالدار اور اکاؤنٹنٹ سمیت تین افراد ہلاک اور 20کے لگ بھگ زخمی ہوئے تھے ۔

نئی عمارت کے افتتاح کے بعد امریکی کونسل جنرل الزبتھ روڈ نے پشتو زبان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال دہشت گردوں نے آزاد میڈیا کی آواز دبانے کی کوشش کی۔

22دسمبر کو ہونے والے خود کش حملے کو ایک دلیرپولیس اہلکار ریاض الدین نے جان پر کھیل کر ناکام بنا د یا۔ پریس کلب کا ایک اہلکار اقبال شاہ اس واقعہ میں شہید ہو گئے ۔

صحافت ایک اچھا پیشہ ہے مگر پاکستان جیسے ملک میں کہ یہ پیشہ خطرناک بھی ہو سکتاہے ۔ پریس کلب پر ہونے والے حملے کے بعد پاکستان میں چھ صحافی دہشت گردی کے مختلف واقعات میں شہید ہو گئے ۔

امریکی سفارت کار نے پشاو ر کے صحافیوں کے دہشت گردوں کے خلاف قلم اٹھانے اور بولنے پر تعریف کی اور امریکی حکومت کا دہشت گردی کے خلاف حکومت پاکستان اور عوام کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔

صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے بھی سکیورٹی سسٹم کے تعمیر پر امریکی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG