رسائی کے لنکس

سیاسی و قانونی حلقے وزیر اعظم کے قوم سے خطاب کے منتظر


سیاسی و قانونی حلقے وزیر اعظم کے قوم سے خطاب کے منتظر

سیاسی و قانونی حلقے وزیر اعظم کے قوم سے خطاب کے منتظر

آئینی و قانونی ماہرین کا موقف ہے کہ اگر حکومت واقعی ججوں کی بحالی کا نوٹیفیکیشن واپس لینے پر غور نہیں کر رہی تھی اور وزیر اعظم گیلانی اتوار کو قوم سے خطاب میں بھی اس بات کا اعیادہ کر نے جار ہے ہیں تو پھر اٹارنی جنرل کے توسط سے جمعہ کو عدالت عظمیٰ کے سامنے اس حوالے سے چند سطروں پر مشتمل تحریر ی یقین دہانی پیش کرنے میں اُسے کیا قباحت تھی۔

عدلیہ اور حکومت کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں سیاسی و قانونی حلقے اتوار کو وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کے قوم سے خطاب کا بے چینی سے انتظار کرر ہے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ملکی اور بین الاقوامی سیاسی معاملات پر اظہار خیال کے علاوہ وزیر اعظم اس خطاب میں ججوں کی بحالی کے 16 مارچ ،2009 ء کے اپنے انتظامی حکم نامے کو واپس لینے کے بارے میں عدلیہ کے تحفظات اور غلط فہمیوں کو بھی دور کرنے کی کوشش کریں گے۔

سپریم کورٹ میں این آراو نظر ثانی اور این آر او عملدرآمدسے متعلق مقدمات کی سماعت حکومت اور اعلیٰ عدلیہ کے درمیان کشیدگی کا باعث بنی ہوئی ہے۔

لیکن عدالت عظمیٰ کی طرف سے حکومت کو ان مقدمات میں وکیل تبدیل کرنے کی اجازت دیے جانے کے باوجود جمعرات کی شب مقامی نجی ٹی وی چینلز پر ان خبروں کی تشہیر کے بعد صورت حال انتہائی کشیدہ ہو گئی کہ حکومت ججوں کو بحال کرنے کا نوٹیفیکیشن واپس لے کر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت کئی سینئر جج صاحبان کو برطرف کرنے پر غور کررہی ہے۔

اگرچہ اُسی شب وزیر اعظم گیلانی کی طرف سے ایک بیان میں ان خبروں کی تردید کردی گئی لیکن عدالت عظمیٰ کے سترہ رکنی بڑے بنچ نے اٹارنی جنرل انوار الحق کو جمعہ کو طلب کر کے اُن سے حکومت کے موقف کی وضاحت کرنے اور تحریری طور پر یہ یقین دہانی پیش کرنے کو کہا کہ وزیر اعظم اپنا انتظامی حکم نامہ واپس نہیں لیں گے۔

تاہم اٹارنی جنرل جب ملک کے چیف ایگزیکٹو کی طرف سے تحریری بیان مقررہ وقت میں پیش نا کرسکے تو عدالت عظمیٰ نے ایک مختصر حکم نامے میں وزیر اعظم اور صدر سمیت ملک کے تمام آئینی اداروں کے سربراہان کومتنبہ کیا کہ ججوں کی بحالی کے نوٹیفیکیشن کو واپس لینا آئین توڑنے کے مترادف ہوگا جو آرٹیکل چھ کے تحت دستور ِ پاکستان سے غداری ہے۔

وفاقی وزیر قانون بابر اعوان

وفاقی وزیر قانون بابر اعوان

جمعہ کو عدالت کے اس فیصلے کے بعد وفاقی وزیر قانون بابر اعوان نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا کہ ججوں کو ہٹانے کی بے بنیاد خبر پیپلز پارٹی کی حکومت کو ختم کرنے کی سازش کا حصہ ہے کیونکہ ایسا کوئی بھی اقدام زیر غور نہیں تھا اور اس حوالے سے وزیر اعظم کی تردید کافی تھی۔ انھوں نے بلواسطہ طور پر موجودہ بحران کی ذمہ داری عدلیہ اور ذرائع ابلاغ پر عائد کی۔

عدالت عظمیٰ نے اٹارنی جنرل، پیمرا کے چیئرمین اور تین نجی ٹی وی چینلز کے عہدے داروں کو بھی پیر کو سترہ رکنی بنچ کے سامنے پیش ہو کر جمعرات کو ججوں کی برطرفی سے متعلق میڈیا پر نشر ہونے والی متنازع خبروں کی وضاحت کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے وفاقی وزارت اطلاعات نے ایک چھ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو نجی ٹی وی چینلز پر وزیر اعظم کی طرف سے ججوں کی بحالی کے نوٹیفیکیشن کو واپس لینے کی متنازع خبر کی تحقیقات کرے گی اور توقع ہے کہ اس کی ابتدائی رپورٹ پیر کو عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش کی جائے گی۔

آئینی و قانونی ماہرین کا موقف ہے کہ اگر حکومت واقعی ججوں کی بحالی کا نوٹیفیکیشن واپس لینے پر غور نہیں کر رہی تھی اور وزیر اعظم گیلانی اتوار کو قوم سے خطاب میں بھی اس بات کا اعیادہ کر نے جار ہے ہیں تو پھر اٹارنی جنرل کے توسط سے جمعہ کو عدالت عظمیٰ کے سامنے اس حوالے سے چند سطروں پر مشتمل تحریر ی یقین دہانی پیش کرنے میں اُسے کیا قباحت تھی۔

XS
SM
MD
LG