رسائی کے لنکس

بجلی کی بندش سے پیدا ہونے والی صورتحال کے تدارک کی ہدایت


سیکرٹری پانی و بجلی نے وزیراعظم کو صورتحال سے آگاہ کیا

سیکرٹری پانی و بجلی نے وزیراعظم کو صورتحال سے آگاہ کیا

سرکاری بیان کے مطابق وزارت پانی و بجلی کے سیکرٹری کا کہنا تھا کہ دو روز سے گرمی کی شدید لہر کے باعث ملک میں بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے بجلی کی فراہمی میں کمی آئی۔

پاکستان میں جہاں ایک طرف شدید گرم موسم شہریوں کے لیے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے وہیں بجلی کی بندش سے ان کی مشکلات دو چند ہوگئی ہیں۔ ایسے میں روزہ داروں کو اپنے مذہبی فرائض کو پورا کرنے میں بھی مشکل پیش آ رہی ہے۔

حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ماہ رمضان میں سحر اور افطار کے وقت بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی لیکن اس کے باوجود ملک کے مختلف حصوں سے ان اوقات میں بجلی کی بندش کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔

شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں تو بجلی کی طویل بندش کے خلاف ہونے والے مظاہرے تشدد کا رخ بھی اختیار کرگئے۔

وزیراعظم نواز شریف نے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور خاص طور پر سحر و افطار کے اوقات میں بجلی کی بندش کا سخت نوٹس لیتے ہوئے حکام کو اس کا تدارک کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ہفتے کو وفاقی وزارت پانی و بجلی کے سیکرٹری نے وزیراعظم سے ملاقات کر کے انھیں صورتحال سے آگاہ کیا۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق سیکرٹری کا کہنا تھا کہ دو روز سے گرمی کی شدید لہر کے باعث ملک میں بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے بجلی کی فراہمی میں کمی آئی۔

وزیراعظم نے اس رپورٹ پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے بجلی کی فراہمی کو ممکن بنانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔

رواں ہفتے ہی وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف نے بتایا تھا کہ ملک میں بجلی کی پیداوار 16000 میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے اور جہاں تک ممکن ہوگا لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم سے کم کیا جائے گا۔

حکام کے بقول اس وقت پاکستان میں بجلی کی طلب 20 ہزار میگاواٹ سے زائد ہے۔

حکومت میں شامل عہدیدار یہ کہتے ہیں کہ ملک میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے نئے بجلی گھروں کی تعمیر سمیت مختلف منصوبوں پر کام شروع کر دیا گیا ہے جس سے صورتحال میں قابل ذکر حد تک بہتری آئے گی۔

موسم کی شدت اور بجلی کی بندش کے علاوہ رمضان میں لوگوں کو ایک اور پریشانی کا سامنا بھی ہے اور وہ ہے اشیائے ضروری کی قیمتوں کی گرانی۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ رمضان میں عوام کی سہولت کے لیے سستے بازاروں کا اہتمام کرنے کے علاوہ گراں فروشی اور ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG