رسائی کے لنکس

شفقت حسین کو چار اگست کو پھانسی دی جائے گی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

شفقت حسین کی پھانسی کا معاملہ جرم کے وقت اس کی مبینہ کم عمری کی وجہ سے توجہ کا مرکز رہا ہے اور اسی بنا پر سزائے موت پر عمدرآمد کی تاریخیں تبدیل ہوتی رہی ہیں۔

پاکستان کی ایک عدالت نے ایک بچے کے اغوا اور قتل کے جرم میں سزائے موت کے قیدی شفقت حسین کو تختہ دار پر لٹکانے کے لیے پانچویں مرتبہ ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیے ہیں جس کے تحت مجرم کو چار اگست کو پھانسی دی جائے گی۔

شفقت حسین کی پھانسی کا معاملہ جرم کے وقت اس کی مبینہ کم عمری کی وجہ سے توجہ کا مرکز رہا ہے اور اسی بنا پر سزائے موت پر عمدرآمد کی تاریخیں تبدیل ہوتی رہی ہیں۔

مجرم کے اہل خانہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا موقف ہے کہ جرم کے وقت شفقت حسین نابالغ تھا اور اس کی عمر تقریباً 14 سال کے لگ بھگ تھی۔ پاکستانی قانون کے مطابق جرم کے مرتکب بچوں کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔

لیکن اس ضمن میں حکام کی طرف سے مجرم کے طبی تجزیے کے بعد یہ بتایا گیا کہ جرم کے وقت شفقت حسین کی عمر 23 سال کے لگ بھگ تھی۔

شفقت حسین کو 2004ء میں کراچی میں ایک بچے کو اغوا اور پھر قتل کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ مقتول بچہ اس ’رہائشی عمارت‘ میں رہتا تھا جہاں شفقت حسین بطور چوکیدار کام کرتا تھا۔

ملک میں چھ سالوں سے پھانسیوں پر عائد پابندی گزشتہ دسمبر میں ہٹا لی گئی تھی جس کے بعد پہلے تو صرف دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت پانے والوں کو تختہ دار پر لٹکانے کا حکم دیا گیا جب کہ بعد ازاں کسی بھی جرم میں سزائے موت کے مرتکب مجرموں کی سزا پر بھی عملدرآمد کرنے کا اعلان کیا گیا۔

شفقت حسین کو 14 جنوری کو پھانسی دی جانے تھی لیکن اس کی عمر کے تنازع کے وجہ سے یہ معاملہ چار اگست تک پہنچا۔

مجرم کی تمام عدالتوں اور صدر پاکستان سے کی گئی رحم کی اپیلیں بھی مسترد ہوچکی ہیں جب کہ اس کی عمر کے معاملے پر دائر درخواست کو ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے یہ کہہ کر رد کر دیا تھا کہ یہ معاملہ مقدمے کی کارروائیوں کے دوران ذیلی عدالتوں میں کیوں نہیں اٹھایا گیا۔

مجرم کے وکلا کا موقف ہے کہ سابقہ وکیل کی طرف سے مقدمے کی مناسب پیروی نہ کیے جانے کی وجہ سے کم عمری کا معاملہ نظر انداز ہوا۔

اقوام متحدہ، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیمیں پاکستان سے مطالبہ کرتی آرہی ہیں کہ وہ پھانسیوں پر عملدرآمدر کا فیصلہ واپس لے۔ لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش مخصوص حالات میں قانون کے مطابق دی گئی سزاؤں پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔

ادھر پیر کو ملتان کی جیل میں سزائے موت کے دو مجرموں کو پھانسی دے دی گئی۔ حکومت نے ماہ رمضان کے دوران پھانسیوں کو عارضی طور پر معطل کر دیا تھا جس کے بعد یہ پہلے دو مجرم ہیں جنہیں تختہ دار پر لٹکایا گیا۔

گزشتہ دسمبر میں سزائے موت پر عملدرآمد پر عائد پابندی ختم کیے جانے کے بعد سے اب تک 170 سے زائد مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG