رسائی کے لنکس

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے مختلف جرائم میں ملوث قیدیوں کے لیے 23 مارچ یعنی ’یومِ پاکستان‘ کے موقع پر اُن کی سزاؤں میں خصوصی معافی کا اعلان کر دیا ہے۔

ایوانِ صدر سے اتوار کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کی شفارش پر کیا گیا ہے۔

خصوصی معافی کے تحت عمر قید کی سزا کاٹنے والے مجرموں کی سزاؤں میں تین ماہ کی کمی کی جائے گی مگر قتل، جاسوسی اور ریاست کے خلاف سرگرمیوں جیسے سنگین جرائم میں ملوث افراد پر اس معافی کا اطلاق نہیں ہوگا۔

سزائے موت پانے والے افراد اور سنگین جرائم میں ملوث مجرمان کو چھوڑ کر تمام دیگر قیدیوں کی سزا میں 45 روز کی کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔

خصوصی معافی سے صرف وہ قیدی فائدہ اُٹھا سکیں گے جو اپنی دو تہائی قید کی سزا کاٹ چکے ہیں۔

اگر کسی خاتون قیدی کی عمر 60 سال اور مرد قیدی کی عمر 65 سال سے زائد ہے اور وہ ایک تہائی قید کاٹ چکے ہیں تو اُن کی سزاؤں پر بھی اس خصوصی معافی کا اطلاق ہو گا۔

ایسی خواتین قیدی جو دہشت گردی یا قتل کی مرتکب نہیں ہوئیں اور اُن کے بچے بھی قید خانوں میں ہی ہیں، اُن کے لیے ایک سال کی معافی کا اعلان کیا گیا ہے۔

آٹھارہ سال سے کم عمر مجرمان جو اپنی کم از کم ایک تہائی سزائیں کاٹ چکے ہیں اور وہ قتل، دہشت گردی اور ریاست کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث نہیں رہے اُن کی بقیہ تمام سزا معاف کر دی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG