رسائی کے لنکس

غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے پاکستان کی نئی حکمت عملی

  • حسن سید

غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے پاکستان کی نئی حکمت عملی

غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے پاکستان کی نئی حکمت عملی

اگر ایک اثاثے کی قیمت ایک ارب ڈالر اور سرمایہ کاری کرنے والا ادارہ صرف 25 کروڑ ڈالر کی رقم لگانا چاہتا ہے تو اسے یہ موقع فراہم کیا جائے گا کہ وہ حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر اپنی صلاحیت اور مہارت سے اس ادارے کی کارکردگی اور منافع میں اضافہ کرے۔ اس فارمولے کے تحت سرمایہ کاری کرنے والی کمپنی کے لیے اہداف بھی مقرر کیے جائیں گے اور اگر اس کی کارکردگی تسلی بخش ثابت نہیں ہوئی تو اس ادارے سے کنٹرول واپس لیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے اقتصادی ماہرین نے نجکاری کے شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری پر کشش بنانے کے لیے ”سٹریٹیجک فارمولا“ کے نام سے ایک نیا پروگرام متعارف کروایا ہے جس سے ان کے مطابق بجلی سمیت بحران کے شکار دوسرے شعبوں کی تیز رفتار ترقی بھی ہوسکے گی۔

پیر کے روز اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرنجکاری سینیٹر وقار احمد خان نے بتایا کہ اس فارمولے کے تحت سرمایہ کاری کرنے والی کمیٹی کو انتظامی کنٹرول کے ساتھ کسی بھی ادارے کا 26 فیصد فروخت کردیا جائے گا جب کہ حکومت پاکستان کے پاس بھی ادارے میں عمل دخل کا حق موجود ہوگا۔

مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر ایک اثاثے کی قیمت ایک ارب ڈالر اور سرمایہ کاری کرنے والا ادارہ صرف 25 کروڑ ڈالر کی رقم لگانا چاہتا ہے تو ہم اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے بلکہ اسے یہ موقع فراہم کریں گے کہ وہ حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر اپنی صلاحیت اور مہارت سے اس ادارے کی کارکردگی اور منافع میں اضافہ کرے۔

تاہم انھوں نے واضح کیا کہ اس فارمولے کے تحت سرمایہ کاری کرنے والی کمپنی کے لیے اہداف بھی مقرر کیے جائیں گے اور اگر اس کی کارکردگی تسلی بخش ثابت نہیں ہوئی تو اس ادارے سے کنٹرول واپس لیا جا سکتا ہے۔

سینیٹر وقار احمد خان نے کہا کہ 26 فیصد سٹریٹیجک فارمولے کے نتیجے میں جہاں ملک کو شدت سے درکار سرمایہ کاری حاصل ہوگی وہیں بحران کا شکار توانائی کے شعبے کی ترقی بھی ہوگی کیونکہ بین الاقوامی مہارت اور استعداد شامل ہونے سے بجلی کی چوری، ضیاع اور دوسرے مسائل حل ہوسکیں گے۔

وفاقی وزیر کے مطابق آئندہ تین ماہ کے اندر اس پروگرام کی بھرپور طریقے سے عالمی سطح پر تشہیر کی جائے گی اور وہ پر اعتماد ہیں کہ اس سے یقیناً حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئیں گے۔

اس سوال پر کہ مذکورہ فارمولے کے تحت کون کون سے ادارے سرمایہ کاری کے لیے پیش کیے جارہے ہیں، انھوں نے بتایا کہ کل 23 اداروں کی فہرست تیار کی گئی ہے جن میں بہت سی تیل، گیس اور پاور کمپنیاں شامل ہیں۔ وقار احمد خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عالمی اقتصادی تنزلی کے باوجود بھی امریکہ سمیت بہت سے ملک اور ان کی خود مختار کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے بھرپور خواہش ظاہر کررہی ہیں کیونکہ ان کے بقول وہ جانتی ہیں کہ ملک میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان نے مالاکنڈ اور پھر وزیرستان میں جس کامیابی سے دہشت گردی کے خلاف آپریشن کیا ہے اس سے عالمی سطح پر اعتماد بحال ہوا ہے اور اب تشدد یا عدم تحفظ کا احساس بیرونی سرمایہ کاری میں رکاوٹ نہیں بن رہا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی کارروائیوں کے باعث جہاں اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں وہیں عدم تحفظ کا ایک احساس بیرونی سرمایہ کاروں کو بھی پاکستان سے دور رکھتا آیا ہے۔ حکومتی عہدیداروں کے مطابق اب تک پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو اقتصادی نقصان ہوا ہے اس کا تخمینہ تقریباً 35 ارب ڈالر ہے۔

دریں اثنا وزیرخزانہ شوکت ترین کی سربراہی میں ایک اقتصادی وفد اس ہفتے دبئی میں عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ امداد کی نئی قسط حاصل کرنے اور پاکستان کی اقتصادی کارکردگی کے حوالے سے بات چیت کررہا ہے۔

ادھر نجکاری کمیشن کے سابق سیکرٹری احمد وقار ادارے کی طرف سے پیش کیے جانے والے پروگرام پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ محض 26 فیصد حصص نجی ملکیت میں دینا سرمایہ کاروں کے لیے کوئی پر کشش بات نہیں ہوگی اور نہ ہی اس طرح معیاری بیرونی سرمایہ کار مارکیٹ میں آئیں گے۔ ان کے مطابق اس پروگرام میں بہت سی قانونی پیچیدگیاں بھی ہوسکتی ہیں کیونکہ ماضی میں بھی یہ فارمولا اپنایا گیا تھا اور کوٹ ادو کی نجکاری کے حوالے سے پیدا ہونے والے قانونی مسائل آئندہ پیدا ہونے والی مشکلات کی ایک مثال ہیں۔

XS
SM
MD
LG