رسائی کے لنکس

غیر فعال سرکاری کمپنیوں کی نجکاری ضرور کی جائے گی، وزیراعظم


سٹیل ملز

سٹیل ملز

بعض اقتصادی ماہرین اور قانون سازوں کا کہنا ہے کہ جلد بازی میں سرکاری کمپنیوں کی نجکاری فائدہ مند نا ہوگی۔

حزب اختلاف کے تحفظات کے باوجود نواز شریف انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بجٹ کے خسارے کو کم کرنے اور ملک میں سرمایہ کاری لانے کے لیے غیر فعال سرکاری کمپنیوں کی نجکاری کے عمل کو کسی صورت نہیں روکا جائے گا۔

سرکاری عہدیداروں کے مطابق اس بارے میں کام جاری ہے کہ کس طرح اس عمل کو ’’تیز اور شفاف‘‘ بنایا جائے۔

پاکستان کی معیشت کو اس وقت شدید چیلنجز کا سامنا ہے جس میں قرضہ جات، توانائی کی قلت، گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر اور شدت پسندی کی وجہ سے سلامتی کے خطرات شامل ہیں۔

اسی کے پیش نظر حکومت نے ملک میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے ایک اسکیم کا بھی اعلان کیا جس کے تحت نئی صنعت لگانے پر سرمائے کے ذرائع کے بارے میں کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔

اور اب وزیراعظم نواز شریف نے حال ہی میں اعلان کیا کہ تمام غیر فعال سرکاری کمپنیوں کی نجکاری کی جائے گی۔

’’ہماری ان پر نظر ہے اور بہت جلد وہ فائدہ مند بن جائیں گی لیکن فیکٹریاں حکومت نہیں چلا سکتی۔ یہ حکومت کا کام نہیں۔ حکومت کا کام امن و امان قائم کرنا، دہشت گردی کے خلاف اقدامات کرنا اور اچھی پالسیاں بنانا ہے۔ بچگانہ طریقے سے پاکستان کو نہیں چلایا جا سکتا۔‘‘

سرکاری حکام کے بقول حکومت کو سالانہ اربوں روپے ریلوے، قومی فضائی کمپنی پی آئی اے، پاکستان اسٹیل ملز جیسے کئی اداروں کےخساروں کی مد میں ادا کرنے پڑتے ہیں۔
پاکستان سے 6 اعشاریہ 7 ارب ڈالر کے قرضے کا معاہدہ کرتے ہوئے بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے بھی حکومت سے معاشی اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ بجٹ خسارہ کم کرنے کی شرط عائد کر رکھی ہے۔

بعض اقتصادی ماہرین اور قانون سازوں کا کہنا ہے کہ جلد بازی میں سرکاری کمپنیوں کی نجکاری فائدہ مند نا ہوگی۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور نجکاری کے رکن عثمان سیف اللہ خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’یہ قومی اثاثے ہیں۔ بہتر ہوتا کہ ان کی انتظامیہ جو ہے اسے آؤٹ سورس کر دیا جاتا اور ملکیت جو ہے فی الحال وہ حکومت کے پاس رہتی کیونکہ اندیشہ ہے کہ جس حالت میں یہ ادارے ہیں انہیں بیچا جائے تو اچھی قیمت نہیں ملے گی۔‘‘

حزب اختلاف کے قانون سازوں کا کہنا ہے کہ حکومت پارلیمان کو ’’غیر اہم‘‘ سمجھتے ہوئے اقتصادی یا دوسرے معاملات کو وہاں بحث کے لیے پیش نہیں کرتی۔

ادھر بھارت سے اتوار کو واپسی پر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے معاشی، تجارتی اور سلامتی کے شعبے میں بہتری کے لیے پاکستان اور بھارت میں تعاون کو نا گزیر قرار دیا۔

’’تباہی اس لیے ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ ٹیکس لگا کر پیسہ کما رہے ہیں۔ امیروں سے ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا۔ ہمیں آگے کا سوچنا چاہیے اور ہر ایک کے ساتھ تعلقات بہت کرنا ہوں گے۔ یہ وقت امن کا ہے اور اسی طرح سرمایہ کاری لائی جاسکتی ہے۔‘‘

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چار مہینوں میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا اور برآمدات میں صرف اعشاریہ 6 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ گزشتہ ماہ کے اواخر تک اسٹیٹ بنک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر صرف تین اعشاریہ دو ارب ڈالر رہ گئے تھے۔
XS
SM
MD
LG