رسائی کے لنکس

دہشت گردی اور تشدد کے خلاف ملک بھر میں امن ریلیاں

  • حسن سید

دہشت گردی اور تشدد کے خلاف ملک بھر میں امن ریلیاں

دہشت گردی اور تشدد کے خلاف ملک بھر میں امن ریلیاں

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے عوام کی فلاح و بہبود کا عزم کر رکھا ہے لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں ہونے والا اربوں ڈالر کا نقصان عوام کا معیار زندگی بلند کرنے اور انہیں بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں, تاجر تنظیموں ، مزدور یونینوں ، میڈیا کے نمائندوں اور نوجوانوں سمیت عام شہریوں پر مشتمل امن اتحاد نے ہفتے کو ملک بھر میں ریلیاں نکالیں جن کا مقصد امن کا مطالبہ کرنا اور دہشت گردی کے شکار افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا تھا۔

یہ ریلیاں اسلام آباد کے علاوہ چاروں صوبائی دارالحکومتوں ، قبائلی علاقوں ، کشمیر اور گلگت بلتستان میں نکالی گئیں جن میں شریک سینکڑوں افراد نے امن کے حق میں اور ہر طرح کے تشدد ، سماجی نا انصافیوں، سیاست ،مذہبی فرقے اور نسل کے نام پرہونے والے قتل کے واقعات کی مذمت کی۔

اسلام آباد میں امن ریلی عمر اصغر خان ڈویلوپمنٹ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ہوئی جس میں شریک مردوں، عورتوں اور بچوں نے پریس کلب سے پارلیمنٹ ہاؤس تک مارچ کیا اور نعرے بازی کی ۔

اس موقع پر وائس آف امریکہ سے باتیں کرتے ہوئے ریلی کے منتظمین نے کہا کہ اس کا مقصد ایوان اقدارپر یہ زور دینا تھا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کی وجہ سے متاثر ہونے والے شہریوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کو یقینی بنائے۔

منتظمین نے بتایا کہ امن اتحاد کے دیگر مقاصد میں پاکستان کے عام شہریوں کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے مہم آگے بڑھانا اور حکومت پر زور دینا ہے کہ وہ ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ عوام کو درپیش مہنگائی اور بے روز گاری جیسے مسائل کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔

امن اتحاد کی تنظیم 2009 میں تشکیل پائی تھی جو عوام کی مجوعی فلاح و بہبود کی مہم کو آگے بڑھانے کے لیے کام رہی ہے اور کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اس کا حصہ بن سکتےہیں۔

سال 2010 میں پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں رہا اور ایک غیر سرکاری تنظیم کے جائزے کے مطابق دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی کے مختلف واقعات میں پانچ ہزار کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے عوام کی فلاح و بہبود کا عزم کر رکھا ہے لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں ہونے والا اربوں ڈالر کا نقصان عوام کا معیار زندگی بلند کرنے اور انہیں بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

XS
SM
MD
LG