رسائی کے لنکس

ایف سی اہلکاروں کے قتل پر پاکستان کا افغانستان سے احتجاج


سرتاج عزیز

سرتاج عزیز

مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے افغان حکومت پر زور دیا کہ ایف سی اہلکاروں کے ’’وحشیانہ‘‘ قتل پر ذمہ داران کے خلاف سخت اور فوری کارروائی کی جائے۔

پاکستان نے فرنٹیئر کور کے 23 اہلکاروں کو افغان حدود میں قتل کرنے پر پڑوسی ملک افغانستان سے شدید احتجاج کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے اُمور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے اپنے ملک کی طرف سے یہ احتجاج مالدیپ میں افغان وزیر خارجہ ضرار مقبول عثمانی سے ملاقات میں ریکارڈ کرایا۔

سرتاج عزیز ان دنوں جنوبی ایشیا کے ممالک کی علاقائی تنظیم سارک کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے مالدیپ میں ہیں۔

پاکستان کی طرف سے یہ دعویٰ پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے کہ فرینٹیئر کور کے اہلکاروں کو افغانستان کی حدود میں قتل کیا گیا۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق سرتاج عزیز نے افغان وزیر خارجہ سے کہا کہ حال ہی میں انقرہ میں پاکستان، افغانستان اور ترکی کے سہ فریقی سربراہ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ یہ ممالک اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور اپنے ہاں موجود جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

سرتاج عزیز نے افغان حکومت پر زور دیا کہ ایف سی اہلکاروں کے ’’وحشیانہ‘‘ قتل پر ذمہ داران کے خلاف سخت اور فوری کارروائی کی جائے۔

بیان کے مطابق افغانستان کے وزیر خارجہ نے وعدہ کیا کہ وہ پاکستان کا احتجاج متعلقہ حکام تک پہنچائیں گے اور جواب سے اسلام آباد کو آگاہ کیا جائے گا۔

گزشتہ اتوار کو رات دیر گئے قبائلی علاقے مہمند میں طالبان کے ایک کمانڈر عمر خراسانی نے اغواء کیے جانے والے 23 سکیورٹی اہلکاروں کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان اہلکاروں کو 2010ء میں اغواء کیا گیا تھا۔

اس دعوے کے بعد حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی کوششیں تعطل کا شکار ہو گئیں۔
XS
SM
MD
LG