رسائی کے لنکس

سانحہ کوئٹہ کے خلاف کراچی میں ہڑتال، دھرنے


کراچی میں دھرنے میں شریک خواتین

کراچی میں دھرنے میں شریک خواتین

احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت کی جانب سے ہزارہ شیعہ افراد کے قاتلوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

کوئٹہ کیرانی روڈ پر ہونے والے بم دھماکے میں ہلاکتوں کے خلاف شیعہ علما کی جانب سے کراچی میں پیر کو ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی اس ہڑتال کی حمایت کی گئی۔

شیعہ علما کی جانب سے انچولی، نمائش، ملیر سمیت کراچی دیگر علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

جعفریہ الائنس کے سربراہ علامہ عباس کمیلی نے شعیہ ہزارہ برادری پر حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

احتجاجی مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ جب تک حکومت کی جانب سے ہزارہ شیعہ افراد کے قاتلوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

مظاہرین کا مزید کہنا تھا کہ مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رکھیں گے مظاہرین میں خواتین سمیت بچوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

کراچی میں ہڑتال کے باعث کاروبار زندگی معطل رہا۔ دوسری جانب شہر کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بھی بند رہے۔ شہر میں قائم دفاتر میں بھی حاضری معمول سے کم رہی۔

کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کی جانب سے بھی شیعہ علما کی جانب سے ہڑتال کے اعلان کی حمایت کرتے ہوئے شہر میں ٹریفک معطل رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا جس کے باعث شہر کی سڑکوں ہر ٹریفک کم دکھائی دی۔

احتجاجی دھرنوں کے باعث شہر میں موجود اہم عمارتوں پر سخت سکیورٹی ہائی الرٹ ہے، کراچی ائیرپورٹ سمیت گورنر ہاوس اور وزیراعلی ہاوس اور بلاول ہاوس جانے والے راستوں کو سلامتی کے خدشات باعث بند کر دیا گیا ہے جس کے باعث شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
XS
SM
MD
LG