رسائی کے لنکس

ان مظاہروں میں فرانس کے خلاف نعرے بازی اور خاکے کی اشاعت پر جریدے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔

فرانس کے جریدے چارلی ایبڈو میں پیغمبر اسلام کے خاکے کی اشاعت کے خلاف دنیا کے مختلف مسلمان ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی مظاہروں اور احتجاجی ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

جمعہ کو بھی ملک کے مختلف شہروں بشمول وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مذہبی جماعتوں نے بڑے احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا۔

ان مظاہروں میں فرانس کے خلاف نعرے بازی اور خاکے کی اشاعت پر جریدے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔

اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ہونے والے ایک مظاہرے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے جن سے خطاب کرتے ہوئے اس جماعت کے سربراہ سراج الحق نے اظہار رائے کی آزادی کی آڑ میں مذاہب اور مقدس شخصیات کو تضحیک کا نشانہ بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

"ہم سمجھتے ہیں کہ ایک پرامن دنیا کے لیے اقوام متحدہ کی سطح پر ایسا قانون بنانے کی ضرورت ہے کہ جس میں انبیا کی عزت و احترام کا تحفظ ہو۔"

ایسے ہی مظاہرے ملک کے دیگر صوبوں میں بھی منعقد ہوئے جن میں مذہبی جماعتوں کے علاوہ سول سوسائٹی کی نمائندہ تنظیموں نے بھی شرکت کی۔

چارلی ایبڈو نے گزشتہ بدھ کو اپنے تازہ شمارے کے سرورق پر پیغمبر اسلام کا خاکہ شائع کیا تھا اور معمول سے کئی گنا زیادہ تعداد میں اس کی اشاعت کی۔

اس جریدے کے دفتر پر رواں ماہ کے اوائل میں شدت پسندوں نے حملہ کر کے مدیر اعلیٰ اور پانچ خاکہ نویسوں سمیت 12 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

یہ جریدہ پہلے بھی پیغمبر اسلام کے خاکے شائع کر چکا ہے اور اس کی شہرت کا حوالہ مختلف مذہبی اور مقبول شخصیات کے خاکے بنا کر تنقید ہے۔

دنیا کے مختلف مسلمان رہنماؤں کے علاوہ پاکستان کے صدر اور وزیراعظم نے بھی گزشتہ ہفتے پیغمبر اسلام کے خاکے کی اشاعت کی مذمت کی تھی جب کہ وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز اسلامی ممالک کی تنظیم "او آئی سی" کے سیکرٹری جنرل کو ایک خط کے ذریعے یہ تجویز دے چکے ہیں کہ فرانسیسی جریدے سے معافی طلب کرنے کے لیے قانونی چارہ جوئی کی جائے۔

فرانس کے صدر فرانسواں اولاں دنیا کے مختلف ملکوں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے جواب میں یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ آزادی اظہار کے ساتھ فرانس کی وابستگی کی تاریخ سے ناواقف ہیں۔

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے بھی آزادی اظہار کا دفاع کیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ سراسر غلط ہوگا کہ دیگر مذاہب کی بے حرمتی کر کے انھیں اشتعال دلایا جائے۔

XS
SM
MD
LG