رسائی کے لنکس

صحافی سلیم شہزاد کی ہلاکت کے خلاف ملک گیر احتجاج جاری


صحافی سلیم شہزاد کی ہلاکت کے خلاف ملک گیر احتجاج جاری

صحافی برادری اور حقوق انسانی کی علم بردار تنظیموں کی طرف سے پاکستانی صحافی سلیم شہزاد کے پرسرار قتل کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے اور جمعرات کو بھی ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں اس واقعہ کی شفاف و مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔

یہ احتجاجی مظاہرے صحافتی برادری کی نمائندہ تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کی طرف سے 40 سالہ سلیم شہزاد کی ہلاکت کے خلاف دو روزہ ملک گیر سوگ کا حصہ ہیں ۔ تنظیم کے مطابق جمعہ کو بڑی احتجاجی ریلیوں کا اہتمام کیا جائے گا۔

مزید برآں پی ایف یو جے سمیت 35 مقامی و بین الاقوامی صحافتی تنظیموں نے صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے نام ایک خط میں کہا ہے کہ پاکستان کی حکومت کے پاس وہ تمام وسائل موجود ہیں جن کے ذریعے ملک میں صحافیوں کے قتل کے واقعات کی تحقیقات کرکے مجرمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکتا ہے۔

مزید برآں حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ سلیم شہزاد کے قتل کی تحقیقات میں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں خصوصاً آئی ایس آئی سے بھی پوچھ گچھ کی جائے۔

اطلاعات کے مطابق سلیم شہراد نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ خفیہ ادارے کے اہلکار ان کا تعقب کر رہے ہیں، لیکن سرکاری خبر راساں ایجنسی اے پی پی سے گفتگو میں آئی ایس آئی کے ایک عہدے دار نے اپنے ادارے پر لگائے جانے والے الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کیا ہے۔

سلیم شہزاد 29 مئی کو اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ سے ایک مقامی نیوز چینل کے مکالمے میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے لاپتہ ہو گئے تھے جس کے دو روز بعد اُن کی لاش وفاقی دارالحکومت سے تقریباً 150 کلومیٹر جنوب مشرق میں صوبہ پنجاب کے شہر منڈی بہاؤالدین کے نواح میں ایک نہر سے ملی تھی۔ پولیس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق سلیم شہزاد کی لاش پر تشدد کے نشانات نمایاں تھے اور اُن کی ہلاکت بھی سینے پر ضرب لگنے کی وجہ سے ہوئی۔

XS
SM
MD
LG