رسائی کے لنکس

انگلش کھلاڑیوں کی ’پی ایس ایل‘ شرکت غیر یقینی


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

انگس پورٹر کا کہنا ہے انھیں یقین ہے کہ انگلینڈ سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کو نو آبجیکشن سرٹیفیکٹ (تحریری اجازت نامہ) جاری نہیں کرے گا۔

پاکستان سُپر لیگ (پی ایس ایل) ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کا انعقاد مارچ میں ہو گا جس کی مالیت کا تخمینہ دس کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے، لیکن سلامتی کے خدشات کے پیش نظر انگلش کھلاڑیوں کو اس میں شرکت نا کرنے کا انتباہ کیا گیا ہے۔

برطانوی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے’پروفیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن‘ یا پی سی اے کے چیف ایگزیکٹو انگس پورٹر نےکہا ہے کہ وہ انگلش کھلاڑیوں کو پی ایس ایل میں حصہ نا لینے کا مشورہ دیں گے۔

’’مجھے یقین ہے کہ انگلینڈ سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کو نو آبجیکشن سرٹیفیکٹ (تحریری اجازت نامہ) جاری نہیں کرے گا۔‘‘

انگلش کھلاڑیوں کی اس نمائندہ تنظیم نے بنگلادیش پریمیر لیگ (بی پی ایل) کے بارے میں بھی یہی موقف اختیار کیا تھا مگر اس انتباہ کے باوجود بعض کھلاڑی اسے کے پہلے دو حصوں میں شرکت کرچکے ہیں۔

2009ء میں لاہور ٹیسٹ کے دوران سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کی بس پر دہشت گرد حملے کے بعد سے اب تک پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ مقابلوں سے محروم ہےکیونکہ غیر ملکی کھلاڑی سلامتی کے خدشات کی وجہ سے اس ملک میں آ کر کھیلنے سے گریزاں ہیں۔

ان حالات کے باعث پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) ایک روزہ میچوں اور ٹیسٹ سیریز کی میزبانی بیرون ملک کرنے پر مجبور ہے۔

پی سی بی کے چیئرمین ذکا اشرف نے گزشتہ ہفتے ایک اخباری انٹرویو میں کہا تھا کہ بنگلادیش کی ٹیم کی طرف سے پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کی صورت میں ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے لیے پی ایس ایل ایک ’’آئیڈیل‘‘ متبادل ہوگا۔

ذکا اشرف کے مطابق پی سی بی نے بنگلادیش کی مسلسل حمایت کی ہے جس میں بنگلادیش پریمیر لیگ میں کھلاڑیوں کو شرکت کی اجازت شامل ہے اور اس کے بدلے بی سی بی نے اپنی ٹیم کو پاکستان کے دورے پر بھیجنے کی حامی بھری تھی۔

پی سی بی کے چیئرمین نے اپنے انٹرویو میں اس یقین کا اظہاربھی کیا تھا کہ نیوزی لینڈ، انگلینڈ، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز اور سری لنکا کے کھلاڑیوں کو پی ایس ایل میں شرکت کے لیے راغب کرکے اس مقابلے کو کامیاب بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
XS
SM
MD
LG