رسائی کے لنکس

پاکستان میں ’ایس ایم ایس‘ پیغامات کا تنازع


پاکستان میں ’ایس ایم ایس‘ پیغامات کا تنازع

پاکستان میں ’ایس ایم ایس‘ پیغامات کا تنازع

پی ٹی اے کے ایک ترجمان محمد یونس خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ قابل اعتراض الفاظ کی مذکورہ فہرست آزمائشی طور پر کمپنیوں کو فراہم کی گئی تھی اور اس کی تشہیر نہیں ہونی چاہیئے تھی کیونکہ اس کا مقصد صرف یہ جاننے کی کوشش تھا کہ آیا ان الفاظ پر مبنی پیغامات کو روکا جاسکتا ہے یا نہیں۔

ایک ہفتہ قبل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی طرف سے نجی موبائل فون کمپنیوں کو سولہ سو سے زائد مبینہ قابل اعتراض الفاظ کی فہرست بھیجی گئی تھی اور یہ ہدایت بھی کی گئی تھی کہ اگر کوئی صارف ایس ایم ایس پیغام میں ان الفاظ کو استعمال کرے تو متعلقہ کمپنی اُس پیغام کی ترسیل کو روک دے۔

یہ فہرست اور خط 14 نومبر کو تمام کمپنیوں کو موصول ہوئے تھے اور انھیں اس حکم نامے پر عملدرآمد کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی گئی تھی تاکہ وہ قابل اعتراض الفاظ پر مشتمل پیغامات کو روکنے کے لیے اپنے ہاں تکنیکی سہولتیں یا فلٹرز نصب کر سکیں۔

یہ ڈیڈلائن پیر کو ختم ہونے پر نجی فون کمپنیوں نے کہا ہے کہ وہ اس سرکاری فیصلے پر عملدرآمد کو موخر کر رہی ہیں کیونکہ انھیں اس فیصلے پر تشویش اور تحفظات ہیں اور جس کی انھوں نے پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی سے کچھ وضاحتیں مانگیں ہیں۔

ان کمپنیوں کے ماہرین کا خیال ہے کہ خصوصی فلٹرز لگانے سے صارفین کو موبائل فون پر فراہم کی جانے والی سروس کا معیار متاثر ہونے کا بھی اندیشہ ہے جب کہ صارفین کو بھی الفاظ کے غلط چناؤ کے باعث اپنے پیغامات بھیجنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس اقدام پر پی ٹی اے کو شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے اور ناصرف اخبارات میں اداریوں کے ذریعے بلکہ آزادی رائے کے اظہار کی علمبردار تنطیموں کی طرف سے قابل اعتراض الفاظ کی فہرست اور اس حکم نامے کو بحیثیت مجموعی ایک غیر دانشمندانہ فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

بظاہر اس شدید تنقید کے ردعمل میں پی ٹی اے کے حکام نے نجی فون کمپنیوں کو سینکڑوں الفاظ پر مشتمل کوئی بھی فہرست بھیجنے کی تردید کی ہے۔

پی ٹی اے کے ایک ترجمان محمد یونس خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ قابل اعتراض الفاظ کی مذکورہ فہرست آزمائشی طور پر کمپنیوں کو فراہم کی گئی تھی اور اس کی تشہیر نہیں ہونی چاہیئے تھی کیونکہ اس کا مقصد صرف یہ جاننے کی کوشش تھا کہ آیا ان الفاظ پر مبنی پیغامات کو روکا جاسکتا ہے یا نہیں۔

انھوں نے کہا کہ اب تک حکومت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ہے اور نہ ہی کمپنیوں کو اس حوالے سے کوئی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اس حوالے سے ایک چھوٹی مگر حتمی فہرست تمام فریقین کی باہمی مشاورت سے تیار کی جائے گی۔ لیکن ان کے بقول ایس ایم ایس کے ذریعے مبینہ قابل اعتراض الفاظ پر پابندی کا مقصد دراصل صارفین کے بنیادی حقوق کے احترام کو یقینی بنانا ہے۔

’’کچھ مخصوص لفظ ایسے ہیں جن کو اگر ہم سسٹم پر ہی بلاک کر دیں تو کم ازکم وہ لوگوں تک پہنچیں گے تو نہیں، اگر ایک دفعہ کسی کو گالی پہنچ گئی تو اس بیچارے کو جو تکلیف ہونے تھی وہ تو ہو گئی۔ جو بلڈ پریشر بڑھنا تھا وہ تو بڑھ گیا یا کسی نے کسی کو دھمکانا ہے یا کوئی نا زیبا بات کر دی ہے تو وہ بات تو اس تک پہنچ گئی۔ اس لیے یہ سوچا گیا کہ سسٹم کے اندر ہی چند ایسے اقدامات کر دیئے جائیں کہ ایسے الفاظ کو ادھر ہی بلاک کر دیا تو کم از کم لوگ اس اذیت سے تو بچ جائیں گے۔‘‘

پی ٹی اے کے اس حکم نامے کی مذمت کرتے ہوئے ایک غیر سرکاری تنظیم بائٹس فار آل نے کہا ہے کہ وہ اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرے گی کیونکہ یہ ملک کے آئین کی خلاف ورزی ہے۔

یہ تنظیم مواصلات کے جدید نظام کے توسط سے معلومات کے حصول کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس نجی ادارے کے ترجمان شہزاد احمد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حکومت اخلاقیات کو بنیاد بنا کر لوگوں کے حقوق اور ذاتی اظہار رائے پر باپندی لگانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

’’ہم نہیں چاہتے کہ حکومت کمیونیکیشن (مواصلات) کے حوالے سے کوئی بھی قدغن لگائے یا لوگوں کو یہ بتائے کہ اُنھوں نے کیا کہنا ہے اور کیا نہیں۔ یہ بنیادی شہری حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ شاید حکومت عرب اسپرنگ (عرب ملکوں عوامی بغاوت کی تحریک) سے ڈررہی ہو کہ شوشل میڈیا یا ایس ایم ایس پاکستانی حکومت کے خلاف بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ لیکن حکومت کو یہ بھی سمجھنا ہو گا اور یہ جاننا چاہیئے کہ ان اقدامات سے ایسی کسی بھی چیز کو روکا نہیں جا سکتا۔‘‘

پاکستان میں موبائل فون کنکنشن کی تعداد دس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور نجی کمپنیوں کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ایس ایم ایس پیغامات کے ذریعے انھیں خطیر آمدنی ہوتی ہے اس لیے پی ٹی اے کے احکامات پر عمل درآمد سے نا صرف صارفین پریشانی کا شکار ہوں گے بلکہ موبائل فون کمپنیوں کو بھی مالی نقصانات ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG