رسائی کے لنکس

بھارت کے ساتھ تجارتی روابط معطل کرنے کا مطالبہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو دنیا کے سامنے بھارت کے اس رویے کا معاملہ موثر انداز میں اٹھانا چاہیئے۔

جنوبی ایشیا کی دو ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان حالیہ مہینوں میں در آنے والی کشیدگی ہنوز کم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی اور دونوں جانب سے سیاسی حلقوں کی طرف سے بھی سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔

ایسے میں حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف "پی ٹی آئی" کی طرف سے حکومت سے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کرنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔

اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ متنازع علاقے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ تواتر سے جاری ہے جس میں شہری ہلاکتوں کے بعد پاکستان کو موثر قدم اٹھاتے ہوئے بھارت کو واضح پیغام دینا چاہیئے۔

"جب تک وہ ( بھارت) گولہ باری بند نہیں کرتا اور ہماری سرحدوں کی خلاف ورزی بند نہیں کرتا ہمیں زرعی اجناس کی اور دیگر تجارت کو معطل کر دینا چاہیئے۔ اس سے پاکستانی قوم کا یہ پیغام پہنچانا مقصود ہے۔ پہلے جو وہ (بھارت) مقبوضہ کشمیر میں کر رہے تھے وہ اب آزاد کشمیر میں پاکستان کے اندر وہ گولے برسا رہے ہیں۔"

وادی نیلم میں زخمی ہونے والے شخص کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے

وادی نیلم میں زخمی ہونے والے شخص کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے

گزشتہ بدھ کو پاکستانی کشمیر کی وادی نیلم میں ایک مسافر وین لائن آف کنٹرول کے پار سے بھارتی فوج کی گولہ باری کی زد میں آئی تھی جس سے 11 شہری ہلاک ہو گئے تھے جب کہ حالیہ ہفتوں میں فائرنگ کے تبادلے کے دوران پاکستان کے دس سے زائد فوجی مارے جا چکے ہیں اور پاکستانی فوج نے عارضی حد بندی کے دوسری جانب بھارتی فوج کے جانی نقصان کا بھی بتایا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو دنیا کے سامنے بھارت کے اس رویے کا معاملہ موثر انداز میں اٹھانا چاہیئے۔

"سفارتی سطح پر پاکستان کو دنیا سے رابطہ کرنا چاہیئے اور بتانا چاہیئے کہ بھارت بلاوجہ اس طرح کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جو اعتماد سازی کا سب سے اہم جز لائن آف کنٹرول پر فائربندی تھا اس کی خلاف ورزی مسلسل ہو رہی ہے جس کا جواز نہیں بنتا۔"

تین روز قبل ایوان زیریں میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے بھی حکومت سے بھارت کے خلاف سخت موقف اپنانے کا کہا تھا۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج فائربندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کا بھرپور جواب دے رہی ہے جب کہ فوج کے سبکدوش ہونے والے سربراہ جنرل راحیل شریف کا بھی یہ بیان سامنے آ چکا ہے کہ بھارت کی کسی بھی جارحیت کی صورت میں پاکستانی فوج کو موثر جواب دینے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

واہگہ بارڈر پر تجارتی سامان اتارا جا رہا ہے

واہگہ بارڈر پر تجارتی سامان اتارا جا رہا ہے

پاکستان مختلف سبزیوں اور زرعی اجناس کے علاوہ مختلف اشیا بھارت سے درآمد کرتا ہے اور مبصرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں دشمن ملکوں کے درمیان بھی کسی نہ کسی طور تجارتی روابط بحال رہتے ہیں اور چند ایسے شعبوں کو بحال رہنا چاہیئے کہ جس سے آگے چل کر تناؤ میں کمی کے امکانات پیدا ہو سکیں۔

اقتصادی امور کے معروف تجزیہ کار قیصر بنگالی پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارتی روابط معطل کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ تجارتی روابط بڑھانے چاہیئں تاکہ امن کا کوئی ذریعہ بن سکے۔

"یا ہم طے کر لیں کہ بھارت کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں رکھنا پھر تو ٹھیک ہے لیکن دونوں ملک ایک ساتھ ہیں ایک لمبی سرحد ہے اور آپس میں رشتے دارایاں بھی ہیں لوگوں کی دونوں طرف تو یہ ممکن نہیں کہ ہم تصور کر لیں کہ ہندوستان جغرافیے میں ہے ہی نہیں اور ہمارا پڑوسی نہیں ہے۔ تجارت چلتی رہتی ہے دشمن ملکوں کے درمیان بھی چلتی رہتی ہے۔۔۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ کوئی اچھا فیصلہ نہیں ہو گا۔"

پاکستان کا دفتر خارجہ اسلام آباد میں تعینات بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو تواتر کے ساتھ طلب کر کے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر ہونے والے واقعات پر اپنے ملک کا احتجاج ریکارڈ کروانے کے علاوہ یہ کہتا آ رہا ہے کہ دنیا بھر میں اس کے مشن ان ملکوں کے عہدیداروں کو موجودہ صورتحال پر پاکستان کے موقف سے آگاہی فراہم کرتے آ رہے ہیں۔

بھارت کا دعویٰ ہے کہ فائربندی کی خلاف ورزی پاکستان کی طرف سے کی جا رہی ہے اور لائن آف کنٹرول پر اس کی فورسز دہشت گردوں کی مبینہ نقل و حرکت کو روکنے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہیں۔

تاہم پاکستان ان دعوؤں کو مسترد کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG