رسائی کے لنکس

پاکستان: ٹیکس نادہندگان کی فہرست شائع کی جائے گی


پاکستان بھر میں 200 شہریوں میں سے محض ایک شخص ٹیکس ادا کرتا ہے جس کے باعث ملک خزانے پر شدید بوجھ پڑ جاتا ہے۔

پاکستان میں ٹیکس وصولی کے ادارے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کی جانب سے ٹیکس نادہندگان کے ناموں کی فہرست ایک ڈائریکٹری میں شائع کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

بدھ کے روز فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ادارے کے پاس اتنے وسائل موجود نہیں ہیں کہ ملک میں موجود تمام نادہندگان کو پکڑ سکیں۔

واضح رہے کہ ٹیکس کی ادائیگی میں کوتاہی برتنے والوں میں بڑی تعداد ان طاقتور سیاستدانوں کی ہے جو اپنے اثررورسوخ کے باعث ٹیکس کی ادائیگی سے بچ جاتے ہیں۔

پاکستان بھر میں 200 شہریوں میں سے محض ایک شخص ٹیکس ادا کرتا ہے جس کے باعث ملک خزانے پر شدید بوجھ پڑ جاتا ہے۔

ٹیکس کی ادائیگی نہ ہونے کے سبب حکومت کے پاس سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں کو چلانے تک کے لیے پیسہ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اکثر غیر ممالک کی جانب امداد کے لیے دیکھتا ہے۔

ابھی تک پاکستان کی موجودہ حکومت کی جانب سے ٹیکس کی وصولی کے لیے کوئی موثر اور جامع پروگرام سامنے نہیں آیا ہے۔

پاکستان میں سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حکومت میں شامل بہت سے وزراء بھی ٹیکس کی ادائیگی سے پہلو تہی برتتے ہیں۔

دوسری جانب بہت سے ماہرین ٹیکس نادہندگان کی فہرست شائع کرنے کے خیال کو مثبت قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس فہرست کے بعد ملک میں ٹیکسوں کی ادائیگی کے نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے ترجمان شاہد اسد کہتے ہیں کہ، ’ہم چاہتے ہیں کہ یہ ڈائریکٹری سب تک پہنچے تاکہ جو لوگ پر تعیش طریقوں سے رہتے ہیں، ان سے لوگ آ کر پوچھیں کہ ٹیکس کی ادائیگی نہ کرنے کے سبب آپ کا نام لسٹ پر موجود ہے‘۔

پاکستان میں ٹیکس کے نظام کو موثر بنا کر پاکستان کے لیے آئی ایم ایف سے حاصل کردہ 6.7 ڈالر بلین کے قرضے کی ادائیگی بہت آسان ہو جائے گی۔

واضح رہے کہ پاکستان ایسا پہلا ملک نہیں جو ٹیکس نادہندگان کے نام ایک ڈائریکٹری کی صورت شائع کرے گا۔ اس سے قبل سویڈن، فن لینڈ اور ناروے جیسے ممالک میں یہ فہرستیں شائع کی جا چکی ہیں۔

مگر پاکستان میں چند ماہرین ایسے بھی ہیں جن کے نزدیک ٹیکس کی وصولی کے لیے فہرستیں شائع کرنا کافی نہیں ہوگا۔

سپریم کورٹ کے وکیل اکرام الحق کا کہنا ہے کہ، ’محض فہرستیں شائع کرنے سے حکومت یہ نہیں کہہ سکتی کہ انہوں نے اپنا فرض پورا کر دیا۔ انہیں نہ صرف ٹیکس نہ دینے والے افراد کی نشاندہی کرنی چاہیئے بلکہ ان کی تفتیش شروع کرکے انہیں سزا بھی دینی چاہیئے۔ ورنہ فہرستیں شائع کرنے کا کیا جواز ہوگا؟ یہ تو محض وقت ضائع کرنے والی بات ہے‘۔
XS
SM
MD
LG