رسائی کے لنکس

ایڈز کی تشخیص سے لوگ ہچکچاتے ہیں

  • افضل رحمن

پنجاب میں ایڈز کے 2006 تصدیق شدہ کیسز سامنے آچکے ہیں۔ تاہم بین الاقوامی ایجنیسیوں کا اندازہ ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

پنجاب میں ایڈز کے 2006 تصدیق شدہ کیسز سامنے آچکے ہیں۔ تاہم بین الاقوامی ایجنیسیوں کا اندازہ ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے ڈائریکٹر کا کہنا ہےکہ آئندہ تین برسوں میں صوبے کے تمام ضلعوں میں ایڈز کےتشخیصی مراکز قائم کردئیے جائیں گے اور اس مرض کے علاج کے مراکز کی تعداد بھی بڑھا دی جائے گی۔

پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سلمان شاہد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کی طرف سے پاکستان میں ستانوے ہزار سے لیکر سوا لاکھ تک ایڈز کے مریضوں کی بات کی جاتی ہے لیکن ڈراور خوف کی وجہ سے زیادہ تر مریض اپنا ٹیسٹ ایچ آئی وی پازیٹو ہونے کے باوجود سامنے آنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ کسی کو ایڈز کا مرض ہو تو پاکستان میں یہ تصور کر لیا جاتا ہے اس شخص کو یہ مرض جنسی بے راہ روی کی وجہ ہی سے لگا ہوگا۔

ڈاکٹر سلمان شاہد کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ صوبے میں انھوں نے جتنے سروے کروائے ہیں اُن سب کے مطابق یہاں ایڈز کا مرض پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ نشے کے لیے پہلے سے استعمال شدہ سرنج کو استعمال کرنا ہے۔ اُن کے بقول دوسری بڑی وجہ یقیناً سیکس ورکزر کے ساتھ جنسی تعلق کا غیر محفوظ طریقہ کار باور کیا جاتا ہے مگر سرنج کے غیر محتاط استعمال سے ایڈز کا مرض سیکس ورکرز کے غیر محفوظ رویوں کی نسبت کئی گنا زیادہ پھیل رہا ہے۔

ڈاکٹرسلمان شاہد نے بتایا کہ اگروالدین کو یہ مرض ہو تو پیدا ہونے والے بچوں میں یہ بیماری منتقل ہوجاتی ہے مگر بدقسمتی سے اکثر اس بات کا اُن لوگوں کو پتہ ہی نہیں چل پاتا جنہوں نے اپنا مرض چھپایاہوتا ہے۔

پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے ڈائریکٹر نے اس بات پر زور دیا کہ اس سلسلے میں لوگوں تک ضروری معلومات پہنچانے اور ایڈز کے مریضوں کو اُن کے مزاکز تک پہنچانے کے لیے جو کچھ بھی کیا جائے وہ کم ہے کیونکہ اُن کے بقول اس مرض پر قابو پانا صرف اس صورت میں ممکن ہوگا جب مریض سامنے آنے سے ہچکچائیں گے نہیں۔

واضح رہے کہ دنیا میں اس وقت لگ بھگ چھ کروڑ لوگ ایڈز کے مرض سے متاثر ہیں جن میں پچیس لاکھ کے قریب معصوم بچے ہیں جو اس مرض کے ساتھ ہی پیدا ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر سلمان شاہد نے بتایا کہ پنجاب میں ایڈز کنٹرول پروگرام کے پہلے مرحلے کی میعاد پانچ سال ہے جس کے پہلے دو برسوں میں صوبے کے تیرہ ضلعوں میں ایڈز کے تشخیصی مراکز قائم کردئیے گئے ہیں اور آئندہ تین برسوں میں صوبے کے باقی اضلاع میں بھی اس مرض کے تشخیصی مراکز قائم ہوجائیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس مرض کے علاج کے چھ سنٹرز اُن کا ادارہ چلا رہا ہے جن میں آج کل پانچ سو تین مریض زیرعلاج ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد البتہ گیارہ سو ہے جبکہ صوبے بھر میں تصدیق شدہ مریض دو ہزار چھ سو ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر سلمان شاہد نے کہا کہ ایڈز کے علاج کے چار سنٹرز لاھور میں ہیں ایک سرگودھا میں اور ایک ڈیرہ غازی خان میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگلے تین برسوں میں ان سنٹرز کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جائیگا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کے ایڈز کے مرض میں مبتلا ہونے کی خبریں منظرِ عام پر آئی تھیں۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سلمان شاہد نے بتایا کہ اُن کے ادارے نے صوبے کی مختلف جیلوں میں لگ بھگ تینتالیس ہزار قیدیوں کے ٹیسٹ کیے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ابتدائی ٹیسٹ تو بہت سے قیدیوں کے پازیٹو آئے تھے مگر جب اُن پر تفصیلی ٹیسٹنگ کی گئی تو دو سو کے قریب قیدی اس مرض سے متاثر پائے گئے جن میں اُن کے بقول پچانوے ایسے تھے جو اُس کیٹگری میں آتے تھے جن کو ایڈز کا مریض قرار دیاجاسکتا تھا۔ یہ پچانوے قیدی ایڈز کنٹرول پروگرام کے انتظام کے تحت زیرِ علاج ہیں۔

ایڈز کی تشخیص سے لوگ ہچکچاتے ہیں

ایڈز کی تشخیص سے لوگ ہچکچاتے ہیں

ڈاکٹر سلمان شاہد نے کہا کہ بعض اوقات اخبارات میں ایڈز کے حوالے سے اس انداز سے خبریں شائع ہوجاتی ہیں کہ اُن کو پڑھ کر خوف طاری ہوتا ہے حالانکہ اُن کے بقول ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کو اس مرض کے بارے میں زیادہ سے زیادہ اور صحیح معلومات دی جائیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ اُن کے محکمے کی طرف سے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں آج کل کم ہی کوئی تشہیری مہم دیکھنے میں آتی ہے ، ڈاکٹر سلمان شاہد نے کہا کہ آئین میں اٹھارویں ترمیم منظور ہونے کے بعد تشہیری مہم چلانے کے لیے فنڈز بھی مرکز سے صوبوں کو منتقل ہوجائیں گے اور اس طرح اُن کے محکمے کو ساڑھے بارہ کروڑ روپے کی گرانٹ اس مد میں ملنے کی توقع ہے۔

اُنہوں نے بتایا کہ یہ فنڈز، جو کہ زیادہ تر بین الاقوامی اداروں کے ذریعے مرکزی حکومت تک پہنچتے ہیں، جب صوبوں تک پہنچیں گے تو عام پبلک کو یقیناً اشتہارات بھی دیکھنے کو ملیں گے۔

ڈاکٹر سلمان شاہد نے کہا کہ فی الوقت اس مرض سے متعلق آگہی پھیلانے کے حوالے سے ٹریننگ ورکشاپس ہوتی رہتی ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ جمعرات کو لاھور میں اخبار نویسوں کے لیے ایک دو روزہ ورکشاپ اختتام پذیر ہوئی ہے جس میں تربیت کے لیے ماہرین امریکہ اور بھارت سے آئے تھے اور اُنہوں نے بڑی تفصیل کے ساتھ ورکشاپ میں شامل صحافیوں کو اس مرض کی ہولناکی سے آگاہ کیا اور کہا کہ ذرائع ابلاغ کا فرض بنتا ہے کہ وہ عام لوگوں کو ایڈز کے مرض سے بچاؤ کے طریقوں سے آگاہ کرنے کا کام ایک مشن سمجھ کر سرانجام دیں۔

XS
SM
MD
LG