رسائی کے لنکس

جنوبی پنجاب میں ’چھوٹو گینگ‘ کے ٹھکانوں پر ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

دفاعی تجزیہ کار ائیر مارشل ریٹائرڈ مسعود اختر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ان علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کی مدد سے کارروائی فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع راجن پور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں جرائم پیشہ گروہ ’’چھوٹو گینگ‘‘ کے خلاف کارروائی حتمی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے اور جمعہ کو گن شپ ہیلی کاپٹروں سے بھی اس گروہ کے ٹھکانوں پر شیلنگ کی گئی۔

مقامی ذرائع کے مطابق دریائے سندھ کے ایک جزیرے پر موجود جرائم پیشہ گروہ کی طرف سے ہیلی کاپٹروں پر اینٹی ائیر کرافٹ گن سے بھی فائرنگ کی گئی جس کے بعد مزید فوجی اہلکار بھی آپریشن میں حصہ لینے کے لیے علاقے میں پہنچ رہے ہیں۔

ابتداء میں 1600 پولیس اور 300 رینجرز اہلکاروں کے ساتھ ’’چھوٹو گینگ‘‘ کے خلاف اس آپریشن کا آغاز کیا گیا اور فوج پیچھے تھی، لیکن دو ہفتوں سے زائد کی کارروائی میں کوئی نمایاں کامیابی نا ملی جس کے بعد فوج کی مدد بھرپور کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق اس وقت لگ بھگ 1500 فوجی اہلکار اس کارروائی میں حصہ لینے کے لیے وہاں موجود ہیں۔

جس علاقے میں یہ آپریشن جاری ہے وہاں مقیم آبادی کی نقل و حرکت بھی محدود کر دیا گیا ہے تاکہ جرائم پیشہ عناصر اور دیگر مشتبہ شدت پسند مقامی لوگوں کا روپ دھار کر فرار نا ہو سکیں۔

پنجاب پولیس نے رواں ہفتے کے اوائل میں کہا تھا کہ اس علاقے میں ہیلی کاپٹروں کی مدد سے فضائی کارروائی کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

دفاعی تجزیہ کار ائیر مارشل ریٹائرڈ مسعود اختر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ان علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کی مدد سے کارروائی فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

’’جہاں تک ہیلی کاپٹروں کا تعلق ہے یقینناً وہ زود اثر ہوں گے ۔۔۔ فوج اور رینجرز مل کر یعنی کمانڈوز اور رینجرز مل کر اور پولیس میرے خیال میں بیکنگ میں ہو گی تو میرے خیال میں ان کی کامیابی کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ جب یہ آپریشن شروع کیا گیا تھا تو اُس وقت حکام کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ پولیس اور انسداد دہشت گردی کے محکمے کے اہلکاروں کو فوج کی مدد بھی حاصل ہے۔

پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو میں تصدیق کی کہ فوج علاقے میں موجود ہے اور اُن کے بقول یہ ایک مشترکہ آپریشن ہے جس کا مقصد اس گروہ کا صفایا کرنا ہے۔

’’اب دوبارہ نئے سرے سے اُس آپریشن کو منظم کیا جا رہا ہے، آپ اگلے 24 اور 48 گھنٹے میں دیکھیں گے کہ وہ علاقہ صاف ہو گا۔‘‘

لاہور میں 27 مارچ کو ایک مہلک خودکش بم دھماکے کے بعد پنجاب حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہوا تھا کہ صوبے میں شدت پسندوں کے خلاف رینجرز اور فوج کی مدد سے کارروائی کی جائے۔

ائیر مارشل ریٹائرڈ مسعود اختر کہتے ہیں کہ پنجاب کے دیگر علاقوں میں بھی چھپے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے حکومت کو جلد فیصلہ کرنا ہو گا۔

’’اب دیکھیے جب پچھلے دنوں پارک میں دھماکا ہوا تو فوج نے بذات خود فیصلہ کر لیا سیاسی حکومت نے نہیں کیا تھا ۔۔۔ کیونکہ اس کو لیگل کور نہیں تھا سیاسی طور پر تو پھر غالباً فوج پیچھے ہٹ گئی لیکن دباؤ بہت زیادہ ہے ۔۔۔ تو انھیں فیصلہ کرنا پڑے گا کہ فوج کسی نہ کسی صورت میں آئے رینجرز آئیں لیگل کور کے ساتھ اور اس کو پھیلانا پڑے گا ورنہ عدم تحفظ عوام کے درمیان وہ پھیلتا ہی جائے گا۔ ‘‘

پنجاب پولیس کی ترجمان نے جمعرات کو تصدیق کی تھی کہ کچے کے علاقے میں جاری آپریشن کے دوران 24 اہلکاروں کو جرائم پیشہ عناصر نے یرغمال بنا لیا ہے جن کی بازیابی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔

ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے جس علاقے میں یہ کارروائیاں جاری ہیں وہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی سرحد پر واقع ہے۔

اب تک کی کارروائی میں پولیس کے مطابق شدت پسندوں کے لگ بھگ 150 سہولت کاروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جب کہ کئی ڈاکو مارے بھی جا چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق فوج کے علاقے میں پہنچنے کے بعد چھوٹو گینگ سے تعلق رکھنے والے کئی شدت پسندوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

XS
SM
MD
LG