رسائی کے لنکس

ممتاز قادری پر فرد جرم یکم فروری کو عائد کی جائے گی


ممتاز قادری سکیورٹی اہلکاروں کی تحویل میں(فائل فوٹو)

ممتاز قادری سکیورٹی اہلکاروں کی تحویل میں(فائل فوٹو)

پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کا اعتراف کرنے والے ممتاز قادری کو پیر کے روز راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم انسداد دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سرکاری وکلاء نے عبوری تفتیشی رپورٹ عدالت میں پیش کی ۔ استغاثہ کے وکلا کا کہنا ہے کہ قادری پر یکم فروری کو فرد جرم عائد کردی جائے گی۔

ملزم کے ایک وکیل شجاع رحمن نے وائس آف امریکہ کو بتایاکہ عدالت نے اُنھیں ممتاز قادری سے جیل میں ملاقات کی اجازت دی ہے اور اُنھوں نے عدالت سے یہ استدعا کی ہے کہ قادری کے اہل خانہ کو اس سے ملنے کی اجازت دی جائے۔

سکیورٹی خدشات کے پیش نظر صحافیوں سمیت کسی غیر متعلقہ شخص کو عدالت میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔ پیشی کے لیے لائے جانے والے ممتاز قادری کے چہرے کو بھی سیاہ کپڑے سے چھپایا گیا تھا۔ اس موقع پر ایک ممتاز قادری کے تقریباً دو درجن حامی بھی عدالت کے باہر موجود تھے جواس کے حق میں نعرے لگارہے تھے۔

رواں ماہ کی چار تاریخ کو اسلام آباد کی ایک مارکیٹ میں پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو ان کے سرکاری گارڈ ممتاز قادری نے اس وقت گولیاں مار کرہلاک کردیا تھا جب وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ کھانا کھا کر گھر واپس جانے کے لیے اپنی گاڑی میں بیٹھ رہے تھے۔

قتل کے بعد قادری نے خود کو سکیورٹی اہلکاروں کے حوالے کرتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ اس نے گورنر کو توہین رسالت کے خلاف قانون میں تبدیلی کے حق میں بیان دینے پر قتل کیا ہے۔

اس واقعے کے بعد ممتاز قادری کے حق میں ملک کے مختلف شہروں میں مذہبی تنظیموں کے کارکنوں نے ریلیاں نکالیں اور اس کے اس اقدام کو درست قرار دیا تھا ان تنظیموں نے حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ وہ توہین رسالت قانون میں کسی طرح کی ترمیم سے گریز کرے ۔ وفاقی وزراء کے علاوہ اور خود وزیراعظم گیلانی بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ حکومت اس قانو ن میں تبدیلی نہیں کرے گی۔

XS
SM
MD
LG