رسائی کے لنکس

چار ملکی گروپ کا پانچواں اجلاس مئی میں ہو سکتا ہے: پاکستان


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا کہ اس بات کا امکان ہے کہ مئی میں چار ملکوں کا پانچواں اجلاس ہو گا اور اس دوران طالبان کو مذاکرات (کی میز پر) لانے کے لیے کوششیں جاری رہیں گی ۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا کہ افغانستان میں امن و مصالحت کے لیے قائم چار ملکی گروپ کا آئندہ اجلاس رواں ماہ متوقع ہے، تاہم اُنھوں نے اس کی کوئی تاریخ نہیں بتائی۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ ’’(اس بات کا) امکان ہے کہ مئی میں چار ملکوں کا پانچواں اجلاس ہو گا اور اس دوران طالبان کو مذاکرات (کی میز پر) لانے کے لیے کوششیں جاری رہیں گی ۔ اگر وہ چیز پہلے ہو جاتی ہے (اگر وہ مان جاتے ہیں) تو یہ پہلے بھی ہو جائے گا لیکن اس وقت یہ چاروں ملک ممکنہ طور پر اجلاس کے لیے کوئی تاریخ طے کریں گے تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ وہ کیا رکاوٹیں تھیں اور کیا دشورایاں تھیں کہ ابھی تک بات چیت نہیں ہو پارہی ہے۔ ابھی تاریخ کی کوئی طے نہیں ہوئی ہے لیکن یہ مئی میں ہی ہو سکتی ہے۔‘‘

گزشتہ سال کے اواخر میں اسلام آباد میں ’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس کے موقع پر افغانستان میں امن و مصالحت میں تعاون کے لیے پاکستان، افغانستان، امریکہ اور چین پر مشتمل چار ملکی گروپ تشکیل دیا گیا تھا۔

اس گروپ کے اب تک چار اجلاس ہو چکے ہیں تاہم طالبان اور افغان حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات کے سلسلے میں اس گروپ کی کوششیں تاحال سود مند ثابت نہیں ہو سکی ہیں۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا کہ براہ راست مذاکرات کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

’’یہ کوششیں جاری ہیں، یہ کوششیں جس وقت کسی نتیجے پر پہنچیں گی اور ان کے اندر کوئی خاطر خواہ پیش رفت ہو گی تو لازمی طور پر اس کو (آپ) دیکھ لیں گے کہ چاروں ملکوں کا مذاکرات سے پہلے یا بعد میں اجلاس ہو سکتا ہے۔ یہ بات میں نے پہلے بھی کہی تھی کہ طالبان یا دوسرے گروپ جن کو مذاکرات کی دعوت دی جا رہی ہے، مذاکرات کے میز پر آنا ان کے لیے زیادہ مفید ہے بجائے اس کے کہ وہ اس سے باہر رہیں۔‘‘

گزشتہ ماہ کے اواخر میں قطر میں افغان طالبان کے سیاسی دفتر سے طالبان کے ایک وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اُس کا ایک مقصد افغان حکومت سے براہ راست بات چیت کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔

افغان حکام نے طالبان کے وفد کو پاکستان کا دورہ کرنے کی اجازت دینے پر ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

گزشتہ ماہ کابل میں افغان انٹیلی جنس کے دفتر پر مہلک حملے کے بعد افغانستان کی طرف سے ایک مرتبہ پھر پاکستان کو ہدف تنقید بنایا گیا اور صدر اشرف غنی نے اپنے ملک کی پارلیمان سے خطاب میں پاکستان سے کہا تھا کہ وہ امن مذاکرات میں شرکت سے انکاری طالبان کے خلاف کارروائی کرے۔

تاہم اُن کے اس مطالبے پر پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر برائے اُمور خارجہ سرتاج عزیز کہہ چکے ہیں صرف طاقت کا استعمال اس مسئلے کا حل نہیں اور اُن کے بقول گزشتہ 15 سالوں کے دوران طاقت کے استعمال سے کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

XS
SM
MD
LG