رسائی کے لنکس

زلزلے سے 200 مکانات منہدم، جانی نقصان نہیں ہوا: حکام

  • یاسر منصوری

زلزلے سے 200 مکانات منہدم، جانی نقصان نہیں ہوا: حکام

زلزلے سے 200 مکانات منہدم، جانی نقصان نہیں ہوا: حکام

پاکستان میں قدرتی آفات کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے سرکاری ادارے این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ بدھ کو آنے والے غیرمعمولی شدت کے زلزلے سے جنوب مغربی صوبے بلوچستان کے بعض اضلاع میں لگ بھگ 200 نجی املاک کو جزوی نقصان پہنچا ہے تاہم کسی شخص کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

اسلام آباد میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی صدرات میں ایک اجلاس کے دوران این ڈی ایم اے کے سربراہ ندیم احمد نے بتایا ہے کہ ابتدائی جائزوں کے مطابق مالی نقصانات زلزلے کے مرکز کے قریبی اضلاع نوکنڈی، تافتان، دالبدین، نوشکی اور خاران میں ہوئے جہاں کچے مکانات کی دیواریں اور چھتیں گرنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔

ماہرین ارضیات کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب 1:23 پر آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر تقریباً 7.2 ریکارڈ کی گئی اور اس کا مرکز دالبدین سے 50 کلومیٹر جنوب میں تھا۔ اکتوبر 2005ء کے ہلاکت خیز زلزلے کے بعد آنے والے اس طاقتور ترین زلزلے کے جھٹکے ملک کے بیشتر علاقوں کے علاوہ خلیجی ریاست دبئی اور ہمسایہ ملکوں افغانستان اور بھارت میں بھی محسوس کیے گئے۔

وزیر اعظم گیلانی نے این ڈے ایم اے کو ہدایت کی کہ کسی قسم کی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے امدادی اشیاء فوری طور پر صوبائی دارالحکومت کوئٹہ پہنچا دی جائیں تاکہ باوقت ضرورت بغیر کسی تاخیر کے انھیں متاثرین میں تقسیم کیا جا سکے۔

اُنھوں نے متاثرہ علاقوں میں زمینی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے فوج اور صوبے میں بڑی تعداد میں تعینات نیم فوجی سکیورٹی فورس فرنٹیئر کور کے دستوں کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جائے گا۔

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

8 اکتوبر 2005ء کو آنے والے 7.6 شدت کے زلزے نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور ملک کے شمال مغربی پہاڑی علاقوں میں جہاں کئی شہروں کو تہس نہس کر دیا تھا وہیں اس سے 70 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے تھے۔

بدھ کو 7.3 کی غیر معمولی شدت کے باوجود بڑے نقصانات نا ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ماہرین نے بتایا ہے کہ زلزلے کا مرکز خاصی گہرائی میں تھا۔ اس حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں کیوں کہ پاکستان کے زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ اس کی گہرائی 55 کلومیٹر تھی جب کہ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق یہ تقریباً 85 کلومیٹر تھی۔

اگرچہ شہروں میں املاک کو ہونے والے نقصانات نا ہونے کے برابر تھے پھر بھی بچوں اور خواتین سمیت شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شدید سردی کے باوجود کئی گھنٹے کھلے آسمان تلے گزارے جس کی ایک وجہ حکام کی طرف سے بعد از زلزلہ جھٹکوں سے متعلق انتباہ تھا۔

XS
SM
MD
LG