رسائی کے لنکس

بلوچستان میں مصنوعی اعضا کا مرکز، لوگوں کے لیے اُمید کی کرن


Pakistan Quetta Artificial Limbs

Pakistan Quetta Artificial Limbs

کوئٹہ کے نواحی علاقے میں اس مقصد کے لیے قائم کیے گئے ادارے میں اب تک ٹیڑھے پاﺅں کے ساتھ پیدا ہونے والے 20 ہزار بچوں کا علاج اور ضروری مصنوعی اعضا فراہم کیے جا چکے ہیں۔

بلوچستان کو طویل عرصے سے شدت پسندی کا سامنا رہا ہے اور اس دوران بڑی تعداد میں لوگ بم دھماکے کے سبب جسمانی معذوری کا شکار ہوئے اب ایسے افراد کے علاوہ بچوں کے پیدائشی ٹیڑھے پاﺅں، حادثات اور ذیابیطیس کے باعث ہاتھ یا پاﺅں سے معذور ہونے والے افراد کا علاج صوبے میں ممکن ہے۔

کوئٹہ کے نواحی علاقے میں اس مقصد کے لیے قائم کیے گئے ادارے میں اب تک ٹیڑھے پاﺅں کے ساتھ پیدا ہونے والے 20 ہزار بچوں کا علاج اور ضروری مصنوعی اعضا فراہم کیے جا چکے ہیں۔

ادارے کے فنی شعبے کے منتظم محمد صابر نے وائس آف امر یکہ سے گفتگو میں بتایا کہ ادارے میں ٹیڑھے پاﺅں والے نوزائیدہ بچوں کا سو فیصد علاج کیا جاتا ہے جب کہ اس کے علاوہ پولیو وائرس سے متاثرہ، کسی حادثے میں ہاتھ یا پاﺅں سے محروم ہونے والے افراد، ذیابیطیس یا دیگر امراض کے سبب جسمانی اعضاء سے محروم ہونے والے افراد کو یہاں پر مصنوعی اعضاء لگا ئے جاتے ہیں جس سے وہ عمر بھر کی معذوری سے بچ جاتے ہیں۔

’’کم از کم ہم نے 20 ہزار بچوں کو ہمیشہ کی معذوری سے بچایا ہے اُن کے پاﺅں کو سیدھا کر کے ان بچوں کے لیے خصوصی طور پر تیار کیے گئے جو تے پہنائے جاتے ہیں اسی طرح پولیو سے متاثر ہونے والے بچے جو چلنے پھرنے سے معذور ہوتے ہیں یا پیدل چلنے میں اُن کو مشکلات درپیش ہوتی ہیں، اُن کے لیے ہم نے (کام کیا ہے)۔۔۔۔ اس کے علاوہ ذیا بیطیس یا کسی اور وجہ سے کسی کا پاﺅں کٹ گیا ہو تو ہم لوگ اُس کو پاﺅں (مصنوعی ) لگا دیتے ہیں۔‘‘

نور محمد کا تعلق بلوچستان کے ضلع خضدار سے ہے، وہ دبئی میں ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر کام کرتے تھے۔ اُنھوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا دبئی میں اُن کے پاﺅں پر زخم آیا تھا لیکن کیوں کہ وہاں علاج مہنگا تھا اس لیے وہ اب کوئٹہ میں اپنا علاج کروا رہے ہیں۔

’’بہت علاج کرایا لیکن نہیں ہوا، آخر کار آپریشن کرنا پڑا، اس کے بعد یہاں پاﺅ ں لگانے کے لیے آیا ، ابھی پہلی مر تبہ یہ فٹ کر رہے ہیں ، خدا کر ے کامیاب ہو۔ ‘‘

ادارے کے منتظم محمد صابر نے والدین سے اپیل کی کہ معصوم نوزائیدہ بچوں کے ٹیڑھے پاﺅں کے علاج کے لیے اُنھیں فوری طور پر ادارے سے رجوع کرنا چاہیئے تاکہ بچوں کو علاج اور ضروری مدد فراہم کی جا سکے۔

XS
SM
MD
LG