رسائی کے لنکس

حکام کے مطابق کوئٹہ کے نواحی علاقے مشرقی بائی پاس کے قریب پولیس اہلکاروں کی بس کو رکشہ میں نصب ریموٹ کنٹرول بم نشانہ بنایا۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں جمعرات کی صبح ایک طاقتور بم دھماکے میں دس پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد ہلاک اور بیس سے زائد زخمی ہو گئے۔

پولیس حکام کے مطابق کو ئٹہ کے نواحی علاقے مشرقی بائی پاس کے قریب پولیس اہلکاروں کی بس کو اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب اس میں سوار اکیس اہلکار پولیس کے تر بیتی مر کز سے سول سیکرٹریٹ اپنی ڈیوٹی کے لئے جارہے تھے ۔

بس جب بھوسہ منڈی کے قر یب سے گزر رہی تھی تو سڑک کنارے کھڑے ایک رکشہ میںنصب بم میں ریموٹ کنٹرول سے دھماکا کیا گیا۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ پانچ پولیس اہلکار اور دو راہگیر موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جب کہ باقی اہلکاروں نے اسپتال میں دم توڑا۔

زخمیوں کو فوری طور پر کوئٹہ کے سول اور فوجی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ بلوچستان پولیس کے سربراہ مشتاق سکھیرا نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اگرچہ پولیس اور سکیورٹی فورسز نے کوئٹہ شہر میں متعدد چوکیاں بنا رکھی ہیں لیکن اُن کے بقول دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں کامیابی کے لیے عوام کو بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔



”یہ دہشت گرد آخر کسی گلی محلے مکان میں رہتے ہیں ، تو یہ عوام کا بھی فرض ہے کہ وہ آگے بڑھ کے اُن کے بارے میں معلومات دیں کیوں کہ دہشت گردی کا شکار کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ “

اُدھر نگراں وزیراعلیٰ نواب محمد خان باروزئی کے آبائی ضلع سبی میں نقاب پوش مسلح افراد نے ایک گھر میں گھس کر خو د کار ہتھیاروں سے فائرنگ کر کے چار خواتین سمیت پانچ افراد کو ہلاک کردیا ، حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیا ب ہو گئے۔

سبی کے ضلعی پولیس افسر اویس احمد نے وائس اف امر یکہ کو بتایا کہ واقعہ کی تحقیقات کی جارہی ہیں ۔

بلوچستان میں رواں مہینے کے دوران تشد د کے واقعا ت میں ایک مرتبہ پھر تیزی آئی ہے ، پولیس اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کو اس سے قبل بھی نشانہ بنا یا گیا ۔ بارہ مئی کو آئی جی پولیس کی رہائش گاہ پر ایک خو د کش حملے میں دس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
XS
SM
MD
LG