رسائی کے لنکس

کوئٹہ: دو دستی بم حملوں میں چار افراد ہلاک، متعدد زخمی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پہلا دستی بم حملہ کوئٹہ کے کاروباری علاقے ڈبل روڈ پر ہوا، جہاں حجام کی ایک دکان پر نا معلوم مسلح افراد نے دستی بم پھینکنے کے بعد خود کار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کی۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بدھ کو دو دستی بم حملوں میں کم از کم چار افراد ہلاک اور دس زخمی ہو گئے۔

پولیس کے مطابق پہلا دستی بم حملہ کوئٹہ کے کاروباری علاقے ڈبل روڈ پر ہوا، جہاں حجام کی ایک دکان پر نا معلوم مسلح افراد نے دستی بم پھینکنے کے بعد خود کار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کی۔

اس واقعے میں زخمی ہونے والے 11 افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے تین زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

پہلے حملے کے کچھ ہی دیر بعد کوئٹہ کے سریاب روڈ پر نا معلوم مسلح افراد نے دستی بم حملہ کیا جس میں کم ازکم ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

ان دونوں حملوں کی ذمہ داری کسی فرد یا گروہ نے تسلیم نہیں کی لیکن حکام شبہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس کے ذمہ دار وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اس سے قبل بھی پرتشدد واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں۔

شورش زدہ بلوچستان میں گزشتہ برسوں کی نسبت امن و امان کی صورتحال نسبتاً بہتر تھی لیکن حالیہ ہفتوں میں یہاں ایک بار پھر پرتشدد واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔

گزشتہ ماہ ہی کوئٹہ اور سبی میں ہونے والے بم دھماکوں میں کم ازکم پانچ افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

صوبائی حکومت میں شامل عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کوئٹہ سمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں ایف سی تعینات ہے جب کہ پولیس اور لیویز کے اہلکاروں کو فوج انسداد دہشت گردی کی تربیت فراہم کر رہی ہے۔

علاوہ ازیں ایک سریع الحرکت فورس بھی تشکیل دی جاچکی ہے جس کی وجہ سے دہشت گردانہ واقعات میں ماضی کی نسبت کمی واقع ہوئی ہے۔

XS
SM
MD
LG