رسائی کے لنکس

کوئٹہ میں فائرنگ سے ایف سی کے تین اہلکار ہلاک

  • ستارکاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

فرنٹئیر کور کے مطابق ایف سی کے اہلکار سبزل روڈ پر پیدل گشت کر رہے تھے کہ نا معلوم مسلح افراد نے خود کار ہتھیاروں سے اُن پر فائرنگ کی جس سے دو اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں نیم فوجی فورس فرنٹئیر کور ’ایف سی‘ کے اہلکاروں پر حملے میں تین اہلکار ہلاک ہو گئے۔

جمعہ کو پیش آنے والے اس واقعہ کے بعد سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

فرنٹئیر کور بلوچستان کے ایک ترجمان کے مطابق ’ایف سی‘ اہلکار کوئٹہ شہر کے نواحی علاقے سبزل روڈ پر پیدل گشت کر رہے تھے کہ نا معلوم مسلح افراد نے خود کار ہتھیاروں سے اُن پر فائرنگ کی جس سے دو اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جب کہ تیسرے اہلکار نے اُس وقت دم توڑا جب اُسے بولان میڈیکل کمپلیکس اسپتال پہنچایا گیا۔

واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

بلوچستان پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے جائے وقوع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بغیر کسی ملک کا نام لیے کہا کہ صوبائی حکومت کو توقع تھی کہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

عبدالرزاق چیمہ کا کہنا تھا کہ دہشت گرد سکیورٹی اداروں کو کمزور کرنے کے لیے اُن پر حملے کرتے ہیں، تاہم اُن کے بقول سکیورٹی اداروں کو کمزور نہیں ہونے دیا جائے گا۔

وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنا ءاللہ زہری نے فرنٹیر کور کے اہلکاروں پر حملے کی مذمت کی ہے اور اس میں ملوث عناصر کو جلد گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

قدرتی وسائل سے مالا مال اور رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں اس سے پہلے بھی سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں پر جان لیوا حملے ہوتے رہے ہیں رواں سال کے ابتدائی دو مہینوں میں کوئٹہ شہر میں سکیورٹی فورسز پر دو خودکش حملوں میں 20 سے زائد اہلکار مارے گئے۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے پولیس کے سیکڑوں جوانوں کو فوج اور دیگر ادارے جدید خطوط پر تربیت فراہم کر رہے ہیں جس کی بدولت پولیس کی سریع الحرکت فورس تشکیل دے دی گئی ہے جو اکثر و بیشتر صوبے کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے بعد کارروائی کرتی ہے جس کے نتیجے میں صوبے میں اب ماضی کے مقابلے میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے واقعات میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔

XS
SM
MD
LG