رسائی کے لنکس

سلامتی کے امور کے تجزیہ کار اور سابق وفاقی سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حکومت کو اس رپورٹ کو سنجیدگی سے لینا ہو گا۔

پاکستان کے وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی نے سول اسپتال کوئٹہ پر ہونے والے خودکش بم حملے کی سپریم کورٹ کے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ اور حزب مخالف کی طرف سے ان پر کی گئی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے اتفاق رائے سے شروع کیے گئے قومی لائحہ عمل پر ان کی وزارت اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے نبھا رہی ہے۔

آٹھ اگست کو کوئٹہ کے سول اسپتال کے باہر ہونے والے خودکش بم دھماکے میں 74 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں اکثریت وکلا کی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی تھی جس کی دو روز قبل سامنے آنے والی رپورٹ میں وفاقی وزارت اور وزیر داخلہ کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مناسب اقدام نہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔

تاہم ہفتہ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے چودھری نثار نے کہا کہ اس رپورٹ میں ان کا یا ان کی وزارت کا موقف نہیں لیا گیا اور ان کے بقول وہ اس یکطرفہ رپورٹ کو سپریم کورٹ سمیت ہر فورم پر چیلنج کریں گے۔

انھوں نے بتایا کہ خود پر لگنے والے الزامات کی وجہ سے انھوں نے وزیراعظم سے کہا تھا کہ وہ مستعفی ہونا چاہتے ہیں لیکن ان کے بقول وزیراعظم نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔

قومی لائحہ عمل پر پوری طرح سے عملدرآمد نہ ہونے کی باتیں پہلے بھی مختلف حلقوں کی طرف سے سامنے آتی رہی ہیں لیکن اس تحقیقاتی رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد حکومت کو ایک بار پھر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سول اسپتال کے باہر ہونے والے دھماکے کا ایک منظر

سول اسپتال کے باہر ہونے والے دھماکے کا ایک منظر

سلامتی کے امور کے تجزیہ کار اور سابق وفاقی سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حکومت کو اس رپورٹ کو سنجیدگی سے لینا ہو گا۔

"میرا خیال ہے حکومت کو اس کا نوٹس لینا ہوگا۔۔۔کیونکہ سپریم کورٹ کی سطح کی ایک انکوائری کا یہ نتیجہ ہے تو یہ بھی توقع کی جا سکتی ہے کہ سپریم کورٹ اس کی سفارشات خود ان کی نگرانی کرے اور اس پر سوال کرے۔"

وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران پیپلز پارٹی کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی نسبت وزارت داخلہ کی کارکردگی میں قابل ذکر بہتری آئی اور قانون نافذ کرنے اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان رابطوں میں بہتری سے لاتعداد دہشت گرد واقعات کو رونما ہونے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا گیا۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے نتائج سامنے آ رہے ہیں لیکن مکمل ثمرات وقت سے مشروط ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG