رسائی کے لنکس

بلوچستان میں سوگ، انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کرنے کا فیصلہ


پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے ایک بڑے سرکاری اسپتال میں پیر کو ہونے والے خودکش بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 72 ہو گئی ہے جب کہ اب بھی درجنوں زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

بلوچستان بھر خصوصاً کوئٹہ میں منگل کو فضا سوگوار رہی جب کہ ملک بھر میں وکلا نے احتجاجی ریلیاں نکالیں۔

اُدھر پاکستانی کے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے انٹیلی جنس ایجنسیوں سے کہا ہے کہ وہ ملک بھر ’کومبگ آپریشن‘ یعنی تلاشی کی کارروائیاں تیز کرنے کے علاوہ دہشت گردوں کے چھپے ہوئے عناصر کے خاتمے کے لیے ٹارگیٹیڈ کارروائیاں پوری قوت سے بڑھا دیں۔

منگل کو جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت ہونے والی کور کمانڈر کانفرنس میں کوئٹہ بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ حملہ دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔

جنرل راحیل شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف حاصل ہونے والی کامیابیوں کو پاکستان کی مسلح افواج کسی صورت بھی ضائع نہیں ہونے دیں گی۔

اُنھوں نے فوجی کمانڈروں کو ہدایت کی کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے اُنھیں تمام ضروری مدد فراہم کریں تاکہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کو مربوط اور موثر بنایا جا سکے۔

وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت منگل کو ہونے والے ایک اجلاس میں ملکی سلامتی کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا، اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں ایک ایسے نظریے کے خلاف جنگ کا سامنا ہے جو ہمارا طرز زندگی بدلنا چاہتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت ایسے تمام اقدامات کرے گی جس سے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کوئٹہ میں بہنے والا خون رائیگاں نا جائے۔

وکلا تنظیموں کا احتجاج

سول اسپتال کوئٹہ میں خودکش بم دھماکے میں مارے جانے والوں میں اکثریت وکلا تھی، بلوچستان بار کونسل کے صدر بلال انور کانسی کو پیر کی صبح دہشت گردوں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا اور جب اُنھیں سول اسپتال منتقل کیا گیا تو بڑی تعداد میں وکیل بھی وہاں پہنچ گئے۔

اسی دوران اسپتال کے شعبہ حادثات کے باہر کھڑے وکلا، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے قریب ایک خودکش بمبار نے اپنے جسم سے بندھے بارودی مواد دھماکا کر دیا تھا۔

پاکستان بھر میں وکلا کی تنظیموں کی کال پر منگل کو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا، جب کہ چھوٹے بڑے شہروں میں وکیلوں نے احتجاجی ریلیاں بھی نکالیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیرانتظام ایک ریلی منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے بھی نکالی گئی، جس میں وکلا نے دہشت گردی کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی ظفر نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سب سیاسی جماعتوں کو مکمل ہم آہنگی کے ساتھ دہشت گردوں سے نمٹنا ہو گا اور وکلا تنظیمیں اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ سیاسی جماعتیں اس راہ سے نا ہٹیں۔

بلوچستان میں سوگ

صوبائی حکومت نے اس واقعے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا، جس کا آغاز منگل سے ہوا۔ بلوچستان میں تمام سرکاری و نجی عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں ہے۔

صوبے بھر میں تعلیمی ادارے بند رہے جب کہ اس واقعے کے خلاف شٹرڈاون ہڑتال کی وجہ سے مرکزی شہر کوئٹہ کے تمام کاروباری مراکز بند ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر بتائی جاتی ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ دہشت گرد اس طرح کی کارروائیاں کر کے لوگوں کا عزم کمزور کرنا چاہتے ہیں لیکن اُن کے بقول عسکریت پسند اپنے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

’’ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ کوئٹہ شہر میں کومبگ آپریشن کریں گے اور بلوچستان کے جس بھی کونے میں اگر ایک بھی دہشت گرد موجود ہو گا تو اُس کے خلاف کارروائی کریں گے۔ عوام کو امن دینے کے معاملے پر میری حکومت اور اتحادی کسی صورت سمجھوتا نہیں کریں گے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس طرح کے واقعات کر کے ہمارے حوصلے پست کر دیں گے اور ہم پیچھے ہٹ جائیں گے تو یہ اُن کی بھول ہے۔‘‘

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کچھ گرفتاریاں بھی کی گئی ہیں لیکن اُنھوں نے اس کی تفصیل بتانے سے معذرت کی۔

صوبائی حکومت نے اس خودکش بم حملے کی تحقیقات کے لیے پولیس سپرٹنڈنٹ ندیم حسین کی سر براہی میں چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

حکومت نے ایک خصوصی مرکز بھی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جہاں اس واقعے کے بارے میں کوئی بھی شخص اطلاع فراہم کر سکتا ہے۔

سول اسپتال میں ہونے والے خودکش حملے میں مارے جانے والے افراد کی تدفیناُن کے آبائی علاقوں چمن، ژوب، لورالائی، پشین، نوشکی اور دیگر اضلاع اور شہروں میں کر دی گئی۔

دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے علیحدہ ہونے والے ایک دھڑے جماعت الاحرار نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

کوئٹہ میں پیش آنے والا یہ اس سال کا دوسرا ہلاکت خیز واقعہ ہے۔ اس سے قبل مارچ میں لاہور کے ایک پارک میں ہونے والے خودکش بم دھماکے میں 74 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سول اسپتال بم دھماکے کی امریکہ سمیت مختلف ملکوں، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی طرف سے مذمت کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ایک بیان میں پاکستان کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے اور اس واقعے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کو یقینی بنائے۔

XS
SM
MD
LG