رسائی کے لنکس

ہلاکتوں کے خلاف کوئٹہ میں جزوی ہڑتال

  • ستار کاکڑ

کوئٹہ میں فرقہ وارانہ دہشت گردی تازہ واقعات کے خلاف ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور دیگر شیعہ تنظیموں کی اپیل پر اتوار کو صوبائی دارالحکومت میں جزوی ہڑتال کی گئی۔

ایک روز قبل تشدد کے دو الگ الگ واقعات میں 9 افراد کی ہلاکت ہو گئی تھے جس کے خلاف پہیہ جام ہڑتال کی کال دی گئی تھی لیکن کوئٹہ کے صرف اہم علاقوں میں ہی اس پرعمل ہوتا نظر آیا۔

صوبائی دارالحکومت میں صُبح ہی سے تمام بڑی مارکیٹیں اور اہم شاہراہوں پر واقع دُکانیں بند رہیں، تاہم شہر کے نواحی علاقوں، پشتون آباد، سریاب، کلی عالمو اور بروری میں ہڑتال نہیں کی گئی۔

ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے لگ بھگ 100 کارکنوں نے سڑک پر پتھر رکھ کر کوئٹہ کے مغربی بائی پاس کو کچھ دیر کے لیے بند کر دیا جس سے ٹریفک معطل ہو گئی۔

اُدھر تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے شہر کے خراب حالات اور وقتاً فوقتاً ہڑتالوں سے اُن کا کاروبار بُری طرح متاثر ہو رہا ہے، جب کہ تازہ ترین ہڑتال کے حوالے سے بھی اُنھیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

ہڑتال کے موقع پر کوئٹہ میں کسی نا خوشگوار صورت حال سے بچنے کے لیے شہر میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے اور شہر میں پولیس کے علاوہ فرنٹیئر کور اور انسداد ہشت گردی فورس کی بھاری نفری اہم شاہ راہوں اور چوکوں پر تعینات رہی اور شہریوں کی جامہ تلاشی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

پولیس حکام کے مطابق ہفتہ کو شیعہ ہزارہ برادری پر فائرنگ کے واقعات میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپوں کا سلسلہ گزشتہ رات سے شر وع کر دیا گیا تھا اور اب تک 50 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے جن سے تحقیقات جاری ہیں۔

امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے گزشتہ رات صوبائی وزیرِ داخلہ میر ظفر زہری کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں شامل شرکاء کو بتایا گیا کہ کوئٹہ کو 20 سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے جہاں پولیس لیویز اور ایف سی کی چوکیاں قائم کی جائیں گی۔

اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے پولیس کو بلوچستان کانسٹبلری کے علاوہ ایف سی کے بیس پلاٹون کی مدد بھی حاصل ہوگی جب کہ شہری حدود میں 250 سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب بھی کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG