رسائی کے لنکس

پاکستان کے سب سے بڑے مگر پسماندہ ترین صوبے بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لینے اور اس کے حل پر مشاورت کے لیے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی دو روزہ دورے پر اتوار کو کوئٹہ پہنچ گئے۔

صوبائی دارالحکومت میں قیام کے دوران وہ صوبائی حکام کے عِلاوہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

اِن ملاقاتوں کا مقصد بلوچستان میں روز بروز بڑھتی ہوئی بدامنی اور جبری گمشدگی کے واقعات سمیت دیگر مسائل کی وجوہات کا بغور جائزہ لے کر ان کے حل سے متعلق موثر حکمت عملی وضع کرنا ہے۔

مسٹر گیلانی بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور آغاز حقوق بلوچستان پیکج پر عمل در آمد کے حوالے سے پیش رفت کا بھی جائزہ لیں گے۔

وزیرِ اعظم کی کوئٹہ آمد سے چند گھنٹے قبل شہر کی سِرکی روڈ پر بظاہر فرقہ وارانہ تشدد کے واقعے ممیں کم از کم ایک پولیس اہلکار سمیت چھ افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔

وزیرِ اعظم کے دورہِ کوئٹہ کا اعلان ایک روز قبل اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس کے بعد کیا گیا تھا، جس میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اسلم رئیسانی کے عِلاوہ متعلقہ وفاقی و صوبائی وزراء اور انتظامیہ کے اہم عہدے داروں نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافے کی ضرورت پر بھی بات چیت کی گئی اور وزیر اعظم نے وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک اور صوبائی وزیر اعلیٰ کو مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بلوچستان میں سلامتی کی صورت حال پر ہونے والا یہ دوسرا اعلیٰ سطحی اجلاس تھا اور منگل کو ہونے والے سیاسی و عسکری قیادت کے اجلاس میں بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات اور امن عامہ سے متعلق اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے چھ رکنی کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری بھی دی گئی تھی۔

حالیہ مہینوں کے دوران بلوچستان بالخصوص کوئٹہ میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور سکیورٹی فورسز پر مہلک بم حملوں جب کہ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG