رسائی کے لنکس

وفاقی حکومت سے امدادی پیکج کی منظوری کے بعد ریلوے کی بحالی میں مدد


وفاقی حکومت سے امدادی پیکج کی منظوری کے بعد ریلوے کی بحالی میں مدد

وفاقی حکومت سے امدادی پیکج کی منظوری کے بعد ریلوے کی بحالی میں مدد

پاکستان میں ریل ایک آسان اور نسبتاً کم خرچ ذریعہ آمدورفت ہے لیکن حالیہ برسوں میں یکے بعد دیگرے مسائل کا شکار ہونے والے اس محکمے کی حالت دگرگوں ہوگئی ہے۔ ساٹھ فیصد سے زائد انجنوں کی خرابی، ایندھن کی کمی اور متعدد ریل سروسز کی بندش سے جہاں محکمے کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے وہیں مسافروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرپڑرہا ہے ۔

تاہم ریلوے حکام کاکہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے امدادی پیکج کی منظوری کے بعد صورتحال میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔ ہفتے کو ریلوے کے قائم مقام جنرل مینیجرانجم پرویز نے صحافیوں کو بتایا کہ اس امدادی پیکج سے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کردیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سو پرانے انجنوں، پانچ سو مسافر کوچز، چھ سو سے زائد مال بردار گاڑیوں کی مرمت کی جائے گی۔”کم سے کم وقت میں انجنوں کی مرمت کرکے انھیں ٹریک پر واپس لایا جائے گا تاکہ ریلوے جو اپنے بجٹ ٹارگٹ سے پیچھے جارہا تھا اور جو لوگوں کو مشکلات پیش آرہی تھیں اسے کم دور کریں ۔“

ایک روز قبل وفاقی حکومت نے ریلوے کے لیے گیارہ ارب روپے کے امدادی پیکج کی منظوری دی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ ریلوے کی پاکستان سٹیٹ آئل سے ایندھن کی ادھار پر خریداری کی حد ایک ارب روپے سے بڑھا کر دو ارب روپے کردی گئی تھی۔

حالیہ دنوں میں ریلوے کے ترجمان سعید اختر نے وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ پانچ سو میں سے تین سو انجن خراب ہیں جس کی وجہ سے آئے روز برانچ لائنوں یعنی چھوٹے علاقوں کے لیے سروس معطل کرکے مین لائن پر سروس کو بحال رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کے بقول ریلوے کی مال برداری کی سرگرمیاں بھی کم ترین سطح پر آگئی ہیں۔

تاہم انجم پرویز کا کہنا تھا کہ امدادی پیکج سے نہ صرف مسافر گاڑیوں کے معمولات بحال ہوں گے بلکہ مال بردار بوگیوں کی مرمت سے ریلوے کے ذریعے ہونے والی تجارتی سرگرمیاں بھی بحال ہوں گی۔

XS
SM
MD
LG