رسائی کے لنکس

سرفراز شاہ قتل مقدمے میں نظر ثانی کی اپیل


سرفراز شاہ قتل مقدمے میں نظر ثانی کی اپیل

سرفراز شاہ قتل مقدمے میں نظر ثانی کی اپیل

کراچی میں نوجوان سرفراز شاہ کے قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ افسر خان نامی شخص نے اپنی سزا کے خلاف منگل کو سندھ ہائی کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل دائر کر دی ہے۔

انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے گذشتہ ہفتے محمد افسر سمیت سات افراد کو اس مقدمے میں سزا سنائی تھی۔ رینجرز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے نوجوان سرفراز شاہ کے قتل کے مقدمے میں ایک اہلکار شاہد ظفر کو سزائے موت جب کہ پانچ دیگر اہلکاروں سمیت چھ افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

سرفراز شاہ آٹھ جون کو کراچی کے بے نظیر بھٹو پارک میں رینجرز کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا تھا۔ رینجرز اہل کاروں کا کہنا تھا کہ مقتول ڈکیتی کی کوشش کے دوران مزاحمت پر مارا گیا۔ تاہم واقعہ کی حقیقت مقامی میڈیا پر نشر ہونے والے ویڈیو کے بعد سامنے آئی جس میں رینجرز کے ایک اہل کار کو اپنے ساتھیوں کی موجودگی میں ایک نہتے نوجوان پر گولیاں چلاتے دکھایا گیا۔ گولیاں لگنے کے بعد نوجوان رینجرز اہلکاروں سے اسے ہسپتال لے جانے کی اپیل کرتا رہا تاہم زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو گئی۔

ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے اس واقعہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت کو روزانہ سماعت کرکے اس مقدمہ کا جلد از جلد فیصلہ سنانے کا حکم دیا۔ اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے سپریم کورٹ کے حکم پر حکومت نے سندھ رینجرز اور صوبائی پولیس کے سربراہان کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG