رسائی کے لنکس

رینجرز اہل کاروں کی سزا کے خلاف نظرِ ثانی کی اپیل


رینجرز اہل کاروں کی سزا کے خلاف نظرِ ثانی کی اپیل

رینجرز اہل کاروں کی سزا کے خلاف نظرِ ثانی کی اپیل

کراچی میں سرفراز شاہ قتل مقدمہ میں سزا پانے والے رینجرز کے اہل کاروں نے بدھ کو سندھ ہائی کورٹ میں اپنی سزا کے خلاف نظرِ ثانی کی اپیل دائر کردی ہے۔ اپیل کرنے والوں میں موت کی سزا پانے والے رینجر ز اہل کار شاہد ظفر بھی شامل ہیں۔ جبکہ اس مقدمہ میں سزا یافتہ شہری افسر خان نے بھی ایک روز قبل اپنی سزا کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے گذشتہ ہفتہ سات افراد کو اس مقدمہ میں سزا سنائی تھی۔ ان میں رینجرز کے ایک اہل کار کو سزائے موت جبکہ پانچ دیگر اہل کاروں سمیت چھ افراد کو عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔ ان تمام مجرمان کو سات روز میں سزا کے خلاف اپیل دائر کرنا تھی۔عدالت نے سزائے موت پانے والے اہل کار شاہد ظفر پر دولاکھ روپے اور دیگرملزمان پر ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا جو وہ لواحقین کو ادا کریں گے۔ عمر قید پانے والے ملزمان میں لیاقت علی، منٹھار علی، محمد افضل ، محمد طارق ،باہو رحمان اور پاک کے سکیورٹی گارڈ افسر خان شامل ہیں۔

شاہد ظفر کے وکیل شوکت حیات نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ نظرِ ثانی کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ یہ مقدمہ انسدادِ دہشت گردی کی حدود میں نہیں آتا کیوں کہ ان کے موکل سے دہشت گردی کا کوئی فعل سرزد نہیں ہوا۔ مقتول نے رائفل چھیننے کی کوشش کی جس پر حادثاتی فائر ہوئے ۔ رینجرز والے اسے خود ہسپتال لے کر گئے جہاں وہ علاج کے دوران دم توڑ گیا۔ اس لیے موجودہ شواہد کے تناظر میں دہشت گردی اور دفعہ تین سو دو کے تحت دی گئی سزا غیر قانونی ہے۔

واضح رہے کہ عدالت نے ان ملزمان پر انتیس جون کو فردِ جرم عائد کی تھی۔ جس میں کہا گیا کہ ملزم شاہد ظفر نے سرفراز شاہ کو فائرنگ کرکے قتل کیا جو دہشت گردی کا عمل تھا اور اس سے عوام میں خوف و ہراس پیدا ہوا۔ تاہم ملزمان نے الزام قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔

سرفراز شاہ آٹھ جون کو کراچی کے بینظیر بھٹو پارک میں رینجرز کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا تھا ۔رینجرز اہل کاروں کا کہنا تھا کہ مقتول ڈکیتی کی کوشش کے دوران مزاحمت پر مارا گیا ۔ تاہم واقعہ کی حقیقت اس ویڈیو فوٹیج سے سامنے آئی جس میں رینجرز کے ایک اہل کار کو ساتھی اہل کاروں کی موجودگی میں ایک نہتے نوجوان پر گولیاں چلاتے دکھایا گیا جبکہ نوجوان رحم کی اپیل کرتا رہا اور بر وقت ہسپتال نہ پہنچائے جانے پر دم توڑ گیا۔ یہ ویڈیو فوٹیج مقامی میڈیا پر دن بھر نشر کی جاتی رہی ۔
ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے اس واقعہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت کو روزانہ سماعت کرکے اس مقدمہ کا جلد از جلد فیصلہ سنانے کا حکم دیا۔ دوسری جانب مقتول سرفراز شاہ کے اہلِ خانہ نے امید ظاہر کی ہے کہ اعلیٰ عدالتیں مجرموں کو دی گئی سزا کو برقرار رکھیں گی۔

XS
SM
MD
LG