رسائی کے لنکس

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’ریپریو‘ اور ’جسٹس پروجیکٹ پاکستان‘ نے ایک مشترکہ رپورٹ میں کہا کہ آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد سے اب تک جن افراد کو پھانسی دی گئی ہے ان میں سے صرف 39 کا تعلق کسی شدت پسند تنظیم سے تھا۔

انسانی حقوق کے متعلق ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال 324 افراد کو تختہ دار پر لٹکا کر پاکستان دنیا بھر میں سزائے موت پر سب سے زیادہ عملدرآمد کرنے والے ممالک میں تیسرے نمبر پر رہا مگر پھانسی دیے جانے والے افراد کی اکثریت کا کسی دہشت گرد تنظیم یا حملوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

پاکستان نے 2014 کے اواخر میں ملک کے شمال مغربی شہر پشاور میں آرمی پبلک سکول پر مہلک حملے کے بعد دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ملک میں سزائے موت پر عملدرآمد پر عائد پابندی کو ہٹا لیا تھا۔

اس حملے میں سو سے زائد بچوں سمیت لگ بھگ 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’ریپریو‘ اور ’جسٹس پروجیکٹ پاکستان‘ نے ایک مشترکہ رپورٹ میں کہا کہ حملے کے بعد سے اب تک جن 351 افراد کو پھانسی دی گئی ہے ان میں سے صرف 39 یا دس فیصد مجرم ایسے تھے جن کا تعلق کسی شدت پسند تنظیم سے تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ 2015 میں 324 پھانسیاں دے کر چین اور ایران کے بعد پاکستان دنیا میں سزائے موت پر عملدرآمد کرنے والے ممالک میں تیسرے نمبر پر ہے۔

ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں اور عدالتوں، جیلوں اور قانونی ٹیموں سے حاصل کیے گئے اعدادوشمار کا تجزیہ کرنے کے بعد رپورٹ میں بتایا گیا کہ پھانسی دیے گئے افراد میں نوعمر، ذہنی طور پر بیمار اور وہ قیدی بھی شامل تھے جن پر تشدد کیا گیا یا جنہیں مقدمے کی منصفانہ سماعت کا موقع نہیں دیا گیا۔

حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی طلال چوہدری نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے جن حالات سے گزر رہا ہے ان میں سزائے موت کی بحالی بہت ضروری تھی۔

’’اور اس سزائے موت کی بحالی سے ناصرف کچھ حد تک بڑے جرائم میں کمی آئی ہے جیسے ڈکیتی اور قتل، اس کے علاوہ دہشت گردی کے حوالے سے بھی عام لوگوں میں یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ قانون کے سامنے جو بھی مزاحمت کرے گا اسے سزائے موت بھی دی جا سکتی ہے۔‘‘

تاہم ریپریو کی سزائے موت سے متعلق ٹیم کی ڈائریکٹر مایا فوا نے کہا کہ ’’جنہیں پھانسی دی جاتی ہے وہ اکثر غریب اور کمزور ہوتے ہیں۔ یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ ایسے لوگوں کو پھانسی دے کر پاکستان کیسے زیادہ محفوظ بن سکتا ہے۔‘‘

حکومت نے ابتدائی طور پر یہ کہا تھا کہ سزائے موت پر عائد غیر رسمی پابندی صرف شدت پسندی میں ملوث مجرموں کو سزا دینے کے لیے ہٹائی جا رہی ہے مگر بعد میں تمام مقدمات میں سزائے موت پانے والے افراد کو بھی پھانسیاں دینے کا عمل شروع کر دیا گیا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور یورپی یونین سمیت عالمی سطح پر پھانسیوں کی مذمت کی گئی ہے مگر پاکستان میں عوامی سطح پر سزائے موت کے لیے حمایت پائی جاتی ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان کو درپیش غیر معمولی حالات میں قانون کے مطابق دی گئی سزاؤں پر عملدرآمد ناگزیر ہے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے نئے قوانین کے تحت اب دہشت گرد قانون کی زد سے نہیں بچ سکیں گے۔

ملک میں 2014 کے بعد سے شدت پسندانہ، باغیانہ اور فرقہ وارانہ حملوں میں کمی آئی ہے مگر یہ واضح نہیں کہ یہ کمی پھانسیوں پر عملدرآمد کے نتیجے میں ہوئی کیونکہ ساتھ ہی فوج نے شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی بھی شروع کر رکھی ہے۔

ایک خودمختار تھنک ٹینک ’پاک انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹیڈیز‘ کے مطابق گزشتہ سال 2014 کی نسبت پاکستان میں ہونے والے حملوں میں 48 فیصد کمی واقع ہوئی۔

XS
SM
MD
LG