رسائی کے لنکس

ڈرون حملوں کو محدود کرنے کے بیان کا پاکستان میں خیرمقدم


پاکستانی پارلیمان

پاکستانی پارلیمان

پاکستانی ارکان پارلیمان کا کہنا تھا کہ ملک کی موجودہ اور اس سے پہلے اقتدار میں رہنے والی جماعتیں امریکہ سے مسلسل یہ مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ ڈرون حملوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیئے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما کے سالانہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کا محور ملک کی معاشی ترقی اور عدم مساوات کا خاتمہ تھا تاہم اُنھوں نے اس موقع پر یہ بھی واضح کیا کہ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کی اب بھی ضرورت ہے۔

اُنھوں نے اپنے خطاب میں ڈرون کے استعمال کو محدود کرنے کے احکامات کا بھی ذکر کیا۔

پاکستانی میں اراکین پارلیمان نے ڈرون حملوں کو محدود کرنے سے متعلق امریکی صدر کے بیان کو خوش آئند پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی موجودہ اور اس سے پہلے اقتدار میں رہنے والی جماعتیں امریکہ سے مسلسل یہ مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ ڈرون حملوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیئے۔

سینیٹر مشاہد اللہ نے اس بارے میں وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ’’یہ انتہائی خوش آئند فیصلہ ہے صدر اوباما کا۔ یہ اب عالمی مطالبہ بن چکا تھا اس سلسلے میں اقوام متحدہ میں قرار داد بھی منظور ہوئی۔۔۔۔۔۔۔ اس فیصلے سے امریکہ کی جو ساکھ ہے وہ بھی بہتر ہو گی۔‘‘

سینیٹر نزہت صادق کہتی ہیں کہ ڈرون حملوں کی بندش سے دہشت گردی کے خلاف حکومت کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔

’’میرے خیال میں یہ بہت اہم ہے کیوں کہ اس کی ضرورت بھی تھی۔ وزیراعظم (نواز شریف) جب واشنگٹن گئے تھے اُنھوں نے صدر اوباما سے بھی اس بارے میں بات کی تھی۔۔۔۔۔ (عالمی برادری) کو یہ سمجھنا چاہیئے کہ ہم ان حالات پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اُنھیں اس سلسلے میں ہماری مدد بھی کرنی چاہیئے۔‘‘

پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے اُمور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز بھی ان دنوں امریکہ میں ہیں جہاں اُنھوں نے رواں ہفتے پاک امریکہ اسٹریٹیجک مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت کی۔

امریکی حکام نے پاکستان کی معاونت جاری رکھنے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ اقتصادی مشکلات اور دہشت گردی سے نمٹنے کی حکومت کی کوششوں میں تعاون جاری رکھیں گے۔
XS
SM
MD
LG