رسائی کے لنکس

شاہ زیب کی وطن واپسی کا فیصلہ خاندان کرے گا: دفترِ خارجہ


شاہ زیب باجوہ (فائل فوٹو)

شاہ زیب باجوہ (فائل فوٹو)

سڑک کے حادثے کا شکار ہونے والے پاکستانی طالب علم انتہائی تشویشناک حالت میں امریکہ میں زیر علاج ہیں اور اسپتال انتظامیہ کے مطابق تعلیمی ویزہ 28 فروری کو ختم ہونے کے بعد وہ امریکہ میں قیام نہیں کر سکتے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے امریکہ کے ایک اسپتال میں زیر علاج طالب علم شاہ زیب باجوہ کے ویزے میں توسیع نہ ہونے سے متعلق قیاس آرائیوں پر کہا کہ ویزے میں توسیع کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ شاہ زیب کے خاندان کو کرنا ہے کہ وہ اُسے وہیں رکھنا چاہتے ہیں یا واپس وطن لانا چاہتے ہیں۔

تسنیم اسلم نے کہا کہ شاہ زیب کے خاندان کو ہر ممکن سفارتی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستانی طالب کی صحت سے متعلق ڈاکٹر زیادہ پر اُمید نہیں ہیں۔

امریکہ میں سڑک کے حادثے کا شکار ہونے والے پاکستانی طالب علم انتہائی تشویشناک حالت میں امریکہ میں زیر علاج ہیں اور اسپتال انتظامیہ کے مطابق تعلیمی ویزہ 28 فروری کو ختم ہونے کے بعد وہ امریکہ میں قیام نہیں کر سکتے۔

20 سالہ محمد شاہ زیب باجوہ وسکونسن سپریئر یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے اور گزشتہ سال 13 نومبر کو اپنے دوستوں کے ساتھ کار میں دوران سفر ان کی گاڑی کی ایک ہرن سے ٹکر ہو گئی۔ اس حادثے میں شاہ زیب کے چہرے پر شدید زخم آئے۔

اسپتال پہنچنے پر شاہ زیب ہوش میں تھے اور باتیں کر رہے تھے۔ لیکن اچانک دل کا دورہ پڑنے سے وہ بے ہوش ہوگئے اور انھیں مصنوعی آلات تنفس کے ساتھ مینیسوٹا میں ایسنشیا ہیلتھ سینٹ میری میڈکل سنٹر منتقل کر دیا گیا جہاں وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں اب بھی زیر علاج ہیں۔

شاہ زیب کے اہل خانہ کا اصرار ہے کہ پاکستان میں علاج کی جدید سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے مریض کی جان بچانا مشکل ہوگا لہذا ان کا علاج امریکہ میں ہی کیا جائے۔

امریکہ میں علاج معالجے کی سہولیات خاصی مہنگی ہیں اور خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے شاہ زیب کے بھائی شاہریز باجوہ کا کہنا ہے کہ اب تک اسپتال کا بل تقریباً ساڑھے تین لاکھ ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

تاہم دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے جمعرات کو بتایا کہ اسپتال نے شاہ زیب کے علاج پر خرچ ہونے والی تین لاکھ ڈالر سے زائد رقم مہیا کر دی ہے۔

شاہ زیب کو ایک لاکھ ڈالر کا میڈیکل انشورنس حاصل ہے اور اسپتال انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اب تک کے اخراجات کو خود ہی برداشت کریں گے اور انشورنس کی رقم بھی مریض کے لیے رہنے دیں گے۔
XS
SM
MD
LG