رسائی کے لنکس

سمجھوتا ایکسپریس کیس: پاکستان کا بھارت سے احتجاج

  • عشرت سلیم

پاکستانی دفتر خارجہ

پاکستانی دفتر خارجہ

بھارت کے قومی تحقیقاتی ادارے نے کہا کہ حکومت کے پاس سمجھوتا ایکسپریس کے مرکزی ملزم کی رہائی کو چیلنج کرنے کے لیے کافی شواہد موجود نہیں۔

پاکستان کی وزات خارجہ نے اسلام آباد میں بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کر کے ’سمجھوتا ایکسپریس‘ کیس کے مرکزی ملزم سوامی اسیم آنند کی ضمانت پر رہائی کو بھارتی حکومت کی طرف سے چیلنج نہ کرنے کے فیصلے پر احتجاج کیا ہے۔

فروری 2007ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چلنے والی ریل گاڑی سمجھوتا ایکسپریس پر دہشت گردوں نے دہلی سے 80 کلومیٹر دور پانی پت کے علاقے میں بم حملہ کیا تھا جس سے 68 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان میں اکثریت پاکستانی شہریوں کی تھی۔

تحقیقات کے بعد اس حملے میں ملوث کئی ہندو شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں مرکزی ملزم سوامی اسیم آنند بھی شامل تھا۔

گزشتہ برس بھارتی پنجاب کی ایک عدالت نے اسیم آنند کو مشروط طور پر ضمانت پر رہا کیا تھا، مگر بھارتی حکومت نے اس کی رہائی کو چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارت کے قومی تحقیقاتی ادارے نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس اس کی رہائی کو چیلنج کرنے کے لیے کافی شواہد موجود نہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ میں جنوبی ایشیا اور سارک ممالک سے متعلق شعبے کے ڈائریکٹر جنرل نے جمعہ کو بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے اپنے احتجاج میں بھارت کے عدالتی نظام کی دہشت گردی کے کیسوں سے نمٹنے کی صلاحیت کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا، خصوصاً ان کیسوں میں جن میں پاکستانی شہریوں کی جانوں کا ضیاع ہوا ہو۔

پاکستان نے کہا ہے بھارتی حکام نے اس بزدلانہ حملے کے مرکزی منصوبہ ساز کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی حکومت بھارت سے توقع کرتی ہے کہ وہ سمجھوتا ایکسپریس پر بہیمانہ حملے میں ملوث تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لائے، جس میں 42 معصوم پاکستانیوں کی جانیں چلی گئی تھیں۔

یاد رہے کہ بھارت نے بھی 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز ذکی الرحمٰن لکھوی کی ضمانت پر رہائی پر پاکستان سے احتجاج کیا تھا۔

بھارت کا مؤقف ہے کہ دوطرفہ امن مذاکرات کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے۔

دریں اثنا پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر بھی کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھارت نے ’بلا اشتعال‘ فائرنگ کی۔ دونوں ممالک کے درمیان کشمیر کے متنازع علاقے کی سرحد پر کئی ماہ سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے جس سے تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

XS
SM
MD
LG