رسائی کے لنکس

بھرتیوں اور فنڈز کے اجراء پر پابندیاں ہٹائی جائیں، حکومت


وفاقی وزیر قانون فاروق نائیک (فائل فوٹو)

وفاقی وزیر قانون فاروق نائیک (فائل فوٹو)

قبل از انتخاب دھاندلی کو روکنے کے لیے، الیکشن کمیشن نے سرکاری دفاتر میں نئی بھرتیوں اور نئے ترقیاتی فنڈز کے اجراء پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت نے الیکشن کمیشن کی طرف سے سرکاری محکموں میں نئی بھرتیوں اور ترقیاتی فنڈز کے اجراء پر پابندیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

وفاقی وزیر قانون فاروق نائیک اور مذہبی امور کے وزیر خورشید شاہ نے جمعرات کو چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم سے اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں پابندیوں پر بات چیت ہوئی۔

ملاقات کے بعد وزیر قانون نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا گیا کہ ان پابندیوں سے سرکار میں خلل پڑ رہا ہے۔

’’تقرریاں ایک دن میں نہیں ہوسکتیں۔ یہ عمل تقریباً آٹھ ماہ سے جاری ہے اور فنڈز اگر روک دیے گئے تو ترقیاتی کام رک جائیں گے اور بیرونی فنڈز بھی بند ہو جائیں گے۔‘‘

وزیر قانون نے اس تاثر کی بھی نفی کی کہ مختلف وزارتوں میں غیر قانونی بھرتیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمشنر نے پابندیوں سے متعلق حکومتی معروضات کو تحریری طور پر کمیشن کے پاس جمع کرانے کی ہدایت دی ہے۔

قبل از انتخاب دھاندلی کو روکنے کے لیے، الیکشن کمیشن نے سرکاری دفاتر میں نئی بھرتیوں اور نئے ترقیاتی فنڈز کے اجراء پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق نوکریوں کی فراہمی اور ترقیاتی فنڈز ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

اسی اثناء میں الیکشن کمیشن کی جانب سے حکومت کو ایک ریفرنس بھیجا گیا ہے جس میں ملک میں ووٹ کے استعمال کو لازم قرار دینے کے لیے قانون سازی کی سفارش کی گئی ہے۔ کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل شیر افگن کا کہنا ہے یہ سفارش عدالت اعظمیٰ کے احکامات کے مطابق کی گئی ہے۔

’’آسٹریلیا میں تو ووٹ نہ ڈالنے پر جرمانہ ہو جاتا ہے مگر دیکھنا ہے کہ کیا یہاں ایسا ہو سکتا ہے۔ کیا لوگوں کو اس بات کا ادراک ہے کہ ان کا ووٹ کتنا اہمیت رکھتا ہے؟ تو ان تمام چیزوں پر پارلیمان میں غور کیا جائے گا اور پھر فیصلہ ہوگا کہ اس پر قانون سازی کی جائے۔‘‘

الیکشن کمیشن کی جانب سے مئی میں متوقع عام انتخابات میں کامیاب اُمید وار کے لیے پچاس فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرنے کی شرط عائد کرنے کے لیے بھی حکومت سے قانون سازی تجویز کی گئی ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سیاسی حکومت اپنے پانچ سال پورے کررہی ہے اور متفقہ طور پر مقرر ہونے والے الیکشن کمشنر کی زیر نگرانی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG