رسائی کے لنکس

احتجاج کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے اپنا احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے اس کا دائرہ ملک بھر تک بڑھانے کا اعلان کیا جاچکا ہے۔

وفاقی دارالحکومت کے حساس علاقے میں حکومت مخالف مظاہرین اور پولیس کی جھڑپوں سے پیدا ہونے والی صورتحال پر ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے ردعمل میں تشدد کی مذمت اور معاملے کے پرامن حل پر زور دیا ہے۔

حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے پولیس کی طرف سے خواتین اور بچوں پر ہونے والی شیلنگ کی مذمت کرتے ہوئے سیاسی بحران کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا کہا ہے۔

پیپلز پارٹی کے ایک مرکزی رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ "سیاسی معاملات کو سیاسی طریقے سے حل کیا جانا چاہیے اور اسے طاقت سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ طاقت سے معاملات مزید خراب ہوں گے۔"

متحدہ قومی موومنٹ نے اتوار کو ملک میں یوم سوگ کا اعلان کر رکھا ہے جب کہ اس جماعت کے قائد الطاف حسین نے حکومت سے طاقت کے استعمال سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو "رضا کارانہ طور پر" مستعفی ہونے کا کہا ہے۔

ادھر احتجاج کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے اپنا احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے اس کا دائرہ ملک بھر تک بڑھانے کا اعلان کیا جاچکا ہے۔

مظاہرہ کرنے والی دوسری جماعت پاکستان عوامی تحریک کے قائد طاہر القادری نے اتوار کو اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "حکمران یہ بھول جائیں کہ یہ لوگ اب واپس پلٹ جائیں گے۔"

تحریک انصاف اور عوامی تحریک گزشتہ 16 روز سے ریڈزون میں دھرنا دیے ہوئے تھی لیکن ہفتہ کی رات کو ان کے کارکنوں نے جب وزیراعظم ہاؤس کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی تو وہاں تعینات پولیس اہلکاروں کے ساتھ ان کا تصادم ہوا۔

مظاہرین کی طرف سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا جب کہ پولیس نے آنسو گیس کے گولے اور ربڑ کی گولیاں چلائیں۔ یہ سلسلہ رات بھر جاری رہا اور اتوار کو بھی صورتحال کم و بیش ایسی ہی ہے۔

وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ حکومت نے 17 روز تک تحمل اور صبر سے کام لیا لیکن احتجاج کرنے والے اب اپنے مطالبات طاقت سے منوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سرکاری میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ " ان سے بات چیت کرنے کی کوشش کی گئی وہ اس پر آمادہ نہیں ہورہے ان کی ہر جائز و ناجائز بات کو تسلیم کیا۔۔۔۔وہ اپنے مطالبات کو جبر سے حل کروانا چاہتے ہیں۔"

احتجاج کرنے والی دونوں جماعتیں وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ حالیہ دونوں میں حکومتی عہدیداروں اور ان جماعتوں کے ارکان کے درمیان بات چیت کے کئی دور بھی ہو چکے لیکن یہ معاملہ حل نہ ہوسکا۔

XS
SM
MD
LG