رسائی کے لنکس

پاکستان میں مقیم افغان طلبا کا اضطراب


پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغان بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جاتی رہی ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغان بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جاتی رہی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کسی دوسرے ملک میں پناہ حاصل کرنے والے ہر چوتھے فرد کا تعلق افغانستان سے ہے اور آج بھی سب سے زیادہ افغان پناہ گزین پاکستان میں مقیم ہیں۔

پاکستان اور ایران میں مقیم 40 لاکھ افغانوں کی جلد وطن واپسی کے لیے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے تعاون سے مئی کے اوائل میں ایک نئی حکمت کی منظوری دی گئی جس کے بعد پاکستانی عہدیدار اس توقع کا اظہار کر رہے ہیں کہ تین دہائیوں سے ملک میں آباد افغان پناہ گزینوں کی رضاکارانہ وطن واپسی کے عمل میں تیزی آئے گی۔

پناہ گزینوں کے عالمی دن کی مناسبت سے بدھ کو اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزارت سرحدی اُمور کے جوائنٹ سیکرٹری عمران زیب نے کہا کہ جنیوا میں منظور کی گئی نئی حکمت کو عالمی برادری کی بھی حمایت حاصل ہے۔

عمران زیب نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان، ایران اور پاکستان کی اس مشترکہ حکمت عملی کی کامیابی تب ہی ممکن ہو گی جب عالمی برادری اس سلسلے میں ان تینوں ممالک کا ہاتھ بٹائے گی۔

’’ان (پناہ گزینوں) کے لیے اس قسم کے حالات بننے چاہیئں کہ یہ لوگ واپس افغانستان جا سکیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ جن لوگوں نے ان کو یہاں ہوسٹ (میزبانی) کیا، جن علاقوں میں یہ رہے تھے یا اب بھی رہ رہے ہیں ان علاقوں کو بھی ڈیویلپ کیا جائے۔ تو ان تین چیزوں کی بنیاد پر یہ سلوشن اسٹریٹیجی بنائی گئی ہے۔‘‘

اُنھوں نے بتایا کہ پاکستان میں رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کی تعداد 17 لاکھ ہے جب کہ لگ بھگ 10 لاکھ بغیر اندارج کے ہی یہاں آباد ہیں۔ حکومت پاکستان نے ملک میں آباد ان پناہ گزینوں کو رضا کارانہ طور پر وطن واپسی کے لیے 31 دسمبر 2012ء تک کی مہلت دے رکھی ہے۔

جوں جوں یہ ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں بالخصوص طالب علموں کا اضطراب بڑھ رہا ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے ایک افغان اسکول کی طالبہ سمیرا کہتی ہیں کہ وہ اپنی تعلیم کو کسی طور ادھورا چھوڑ کر پاکستان سے واپس نہیں جانا چاہتیں۔

’’میں چاہتی ہوں کہ اچھی بزنس وومن بنوں تو اگر ہمیں یہاں سے 2012ء (کے اختتام پر) میں جانا پڑے گا تو بہت نقصان ہو گا اور یہ مقصد دل میں رہے گا۔‘‘

عمران زیب کہتے ہیں کہ افغان بچوں کی تعلیم پر ہمیشہ سے خصوصی توجہ دی جاتی رہی ہے اور دو ہزار افغان طالب علموں کو اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے لیے وظائف بھی دیے جا رہے ہیں لیکن ملک میں پناہ گزینوں کے قیام کی توسیع کا اختیار صرف وفاقی کابینہ کو ہی حاصل ہے۔

پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کے پانچ لاکھ سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں جب کہ سات ہزار افغان طالب علم مقامی یونیورسٹیوں اور فنی مہارت کے تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا عمل جاری رکھے ہوئے۔

XS
SM
MD
LG