رسائی کے لنکس

امریکہ بدر کیا گیا پاکستانی واپس بھیج دیا گیا: وزارت داخلہ

  • عشرت سلیم

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان (فائل فوٹو)

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان (فائل فوٹو)

منگل کی رات جاری ہونے والے بیان میں وزارت داخلہ نے کہا کہ مذکورہ شخص کو امریکہ میں جرائم میں ملوث ہونے کے الزام میں ملک بدر کیا جا رہا تھا۔

پاکستان کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بغیر تصدیق اور وزارتِ داخلہ کی منظوری کے بغیر امریکہ سے ملک بدر کیے گئے ایک مسافر کو اس کے ہمراہ آنے والے امریکی اہلکار سمیت اسی فلائٹ سے واشنگٹن واپس بھیج دیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ نے بیان کہا کہ مذکورہ شخص کو امریکہ میں جرائم میں ملوث ہونے کے الزام میں ملک بدر کیا جا رہا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستان نے اعلان کر رکھا ہے کہ کوائف کی تصدیق اور پاکستان کی وزارت داخلہ کی اجازت کے بغیر پاکستان بھیجے گئے کسی بھی شخص کو قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسے مسافروں کو پاکستان لانے والی ائیر لائن کو جرمانہ کیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ نے امریکی پولیس کو بتایا کہ مزکورہ شخص کو پاکستانی قوانین اور وزارت داخلہ کے مروجہ ضابطہ کار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈی پورٹ کرنے یعنی وطن واپس بھیجنے کی کوشش کی گئی۔

بیان کے مطابق وزارت داخلہ نے مذکورہ شخص کو پاکستان لانے والی ترک ایئر لائن کو پانچ ہزار ڈالر جرمانے کا نوٹس بھی جاری کیا ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے گزشتہ سال کے اواخر میں ڈی پورٹیشن یعنی ملک بدری کے متعلق نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے یورپی یونین سے غیر قانونی تارکین وطن کی پاکستان واپسی کا معاہدہ بھی معطل کر دیا تھا۔

ذرائع ابلاغ کو دیے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر بیرون ملک کسی پاکستانی پر جرائم یا دہشت گردی کا الزام ہو تو مذکورہ ملک خود اس کے خلاف کارروائی کرے یا پاکستانی سفارتخانے کو ثبوت فراہم کرے تاکہ پاکستان میں اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ بغیر ثبوت کے دہشت گردی کا الزام لگا کسی کو ملک بدر کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور پاکستان ایسے کسی شخص کو قبول نہیں کرے گا۔

اس سے قبل یورپ اور دیگر ممالک سے پاکستان ڈی پورٹ کیے گئے متعدد افراد کو نئے ضابطہ کار کی خلاف ورزی کے باعث قبول نہیں کیا گیا۔

ہر سال ہزاروں پاکستانی روزگار کی تلاش میں غیر قانونی طور پر بیرون ملک سفر کرتے ہیں جن میں سے کئی کو ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے۔ قانونی طور پر سفر کرنے والوں کو بھی بیرون ملک جرائم یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے۔ چوہدری نثار علی خان کے مطابق 2014 میں 90,000 افراد کو دنیا بھر سے پاکستان واپس بھیجا گیا۔

ان میں وہ افراد بھی شامل تھے جو پاکستانی تو نہیں مگر انہوں نے پاکستان سے بیرون ملک سفر کیا۔

پاکستان سے غیر قانونی بیرون ملک سفر کو روکنے کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ملک بھر میں انسانی سمگلروں کے خلاف آپریشن شروع کر رکھا ہے جس میں اب تک سینکڑوں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG