رسائی کے لنکس

بھارتی وزیر خارجہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ دوطرفہ معاہدے ختم ہو سکتے ہیں لیکن اقوام متحدہ کی قراردادیں تبدیل نہیں ہوسکتیں۔

پاکستان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ بھارت کو اقوام متحدہ کا رکن ہونے کی حیثیت سے مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کی قراردادوں سے روگردانی نہیں کرنی چاہیئے۔


اسلام آباد کی طرف سے یہ موقف بھارتی وزیرخارجہ سلمان خورشید کے بیان کے ردعمل میں سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر بھارت کا ’اٹوٹ انگ‘ ہے اور اس پر کسی کو سوال اٹھانے کی ضرورت نہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چودھری نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر کا مسئلہ کئی دہائیوں سے حل طلب ہے اور بھارتی قیادت کی طرف سے مسلسل اسے اپنا 'اٹوٹ انگ' قرار دیا جانا ان کے بقول حقائق کے برعکس ہے۔

منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اعزاز چودھری کا کہنا تھا کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے اور اس معاملے کے حل کے لیے دونوں ملکوں کو بامعنی مذاکرات میں شریک ہونا چاہیے۔

’’ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کی جڑ یہی ہے سب سے بڑا معاملہ بھی یہی ہے اور اس کےحل کے لیے جس قدر جلد ممکن ہو کوشش کی جائے تو وہ علاقائی امن اور دونوں ملکوں کے عوام کے لیے بہتر ہے۔‘‘

پاکستان کے وزیراعظم نے امریکہ کے دورے پر جاتے ہوئے لندن میں اپنے مختصر قیام کے دوران کہا تھا کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مداخلت کرے لیکن بھارتی وزیرخارجہ سلمان خورشید نے یہ کہہ کر اس بیان کو مسترد کردیا تھا کہ یہ دو ملکوں کا آپسی معاملہ ہے اور اس میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی ضرورت نہیں۔

سلمان خورشید کہ بقول دونوں ملکوں نے شملہ معاہدے کے تحت کشمیر کو باہمی تنازع تسلیم کیا ہے اور اس میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت قبول کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔


دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان اس متنازع علاقے کو تقسیم کرنے والی حد بندی لائن پر رواں سال کے اوائل خصوصاً اگست کے بعد سے ایک دوسرے کی طرف سے فائربندی کی خلاف ورزی کے الزامات کے بعد تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا لیکن گزشتہ ماہ نیویارک میں دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم نے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کو کم کرنے کی تجویز پر عمل درآمد کو جلد از جلد ممکن بنایا جائے تاکہ امن کا سلسلہ آگے بڑھ سکے۔ ان کے بقول دوطرفہ معاہدے ختم ہو سکتے ہیں لیکن اقوام متحدہ کی قراردادیں تبدیل نہیں ہو سکتیں۔

حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما سینیٹر راجہ ظفر الحق نے بھی بھارتی وزیرخارجہ کے بیان کو اقوام متحدہ کے میثاق اور قراردادوں کے منافی قرار دیا۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے وزیراعظم کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے جو دوطرفہ معاہدے ہیں اس کے مطابق ہے اور ایک پرامن اور جمہوری حل ہے اس معاملے کا اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ کشمیریوں سے پوچھا جائے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس مسئلے کے حل کا خواہاں ہے اور اقوام متحدہ کے ارکان کا یہ فرض ہے کہ وہ بین الاقوامی معاملات کو عالمی تنظیم کی قراردادوں کے تحت حل کرائیں تاکہ نہ صرف خطے میں بلکہ دنیا میں امن قائم ہوسکے۔
XS
SM
MD
LG