رسائی کے لنکس

افغان انٹیلی جنس سروسز کے ترجمان حسیب صدیقی کے مطابق آئی ایس آئی کے ایک افسر نے اس حملے کے لیے حقانی نیٹ ورک کے ایک کمانڈر کی مبینہ طور پر مدد کی۔

پاکستان نے افغانستان کے اُن الزامات کو مسترد کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ کابل میں پارلیمنٹ کی عمارت پر حملے کے لیے پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی ’آئی ایس آئی‘ کے ایک افسر نے مبینہ طور مدد فراہم کی۔

افغانستان کے انٹیلی جنس ادارے ’نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی‘ کے ترجمان حسیب صدیقی نے کہا تھا کہ پیر کو پارلیمنٹ پر ہونے والے حملے کی ابتدائی تفتیش سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس کی منصوبہ بندی حقانی نیٹ ورک کے ایک کمانڈر مولوی شرین نے پاکستانی شہر پشاور میں کی۔

حسیب صدیقی کے بقول اس حملے میں استعمال ہونے والی بارود سے بھری گاڑی پاکستانی شہر پشاور میں تیار کی گئی اور افغان حکام کو اس بارے میں دس جون کو معلومات مل چکی تھی جس کی وجہ سے سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا تھا۔

افغان عہدیدار نے الزام لگایا کہ اس کام کے لیے پاکستانی انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ کے افسر نے مدد فراہم کی۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ ہم اس طرح کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

’’اس طرح کے الزمات ماضی میں بھی ’آئی ایس آئی‘ اور اس کے عہدیداروں پر لگتے رہے ہیں۔ پاکستان افغانستان کا خیر خواہ ہے۔۔۔۔ ہم ماضی میں بھی کہہ چکے ہیں اور میں ایک بار پھر کہنا چاہوں گا کہ افغانستان کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں۔‘‘

قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ کابل میں پارلیمنٹ کی عمارت پر حملے کے فوراً بعد پاکستان کے وزیراعظم، اسیپکر قومی اسمبلی اور وزارت خارجہ نے الگ الگ بیانات میں دہشت گردی کی مذمت کی۔

پیر کو پارلیمنٹ کے اجلاس کے موقع پر سات دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا جس میں خواتین اور بچوں سمیت 30 افراد زخمی ہو گئے تھے، تاہم اس حملے میں قانون ساز محفوظ رہے۔

ایک خودکش بمبار نے پارلیمنٹ کی عمارت کے مرکزی دروازے پر بارود سے بھری گاڑی میں دھماکا کیا جس کے بعد اُس کے چھ دیگر ساتھیوں کی لگ بھگ دو گھنٹے تک افغان فورسز سے جھڑپ جاری رہی، جس میں تمام حملہ آور مارے گئے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ افغانستان کی طرف سے اپنے ہاں کسی دہشت گرد واقعے میں پاکستان پر الزام عائد کیا گیا لیکن اشرف غنی کے صدر بننے کے بعد دونوں ملکوں کے فروغ پاتے تعلقات کے تناظر میں یہ الزام بظاہر غیر معمولی بات ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی جانب نرم رویے پر صدر اشرف غنی کو افغانستان میں بھی بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔

ایک ماہ قبل ہی آئی ایس آئی اور افغانستان کے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی کے مابین مفاہمت کی ایک یاداشت پر بھی اتفاق ہوا تھا جس کے تحت دونوں خفیہ ایجنسیاں انسداد دہشت گردی میں معاونت اور معلومات کا تبادلہ کریں گی۔

XS
SM
MD
LG