رسائی کے لنکس

سزائے موت دینا کسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں: پاکستان


ترجمان دفتر خارجہ قاضی خلیل اللہ

ترجمان دفتر خارجہ قاضی خلیل اللہ

وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے بھی پھانسیوں پر عملدرآمد سے متعلق تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دیگر ملکوں کو پاکستان کے آئین و قانون کا اسی طرح احترام کرنا چاہیے جس طرح پاکستان دوسرے ملکوں کے قانون کا کرتا ہے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ اپنے ہاں سزائے موت کے مجرموں کو پھانسی دے کر کسی بھی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں کر رہا۔

پاکستان نے گزشتہ دسمبر میں ملک میں سزائے موت پر عملدرآمد پر چھ سال سے عائد غیر اعلانیہ پابندی ختم کر دی تھی جس کے بعد سے اب تک لگ بھگ 150 مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے۔

حکومت کے اس فیصلے پر انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیموں کے علاوہ یورپی یونین کی طرف سے بھی سخت تنقید کے ساتھ ساتھ اس فیصلے کو واپس لینے کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔

ایک روز قبل ہی یورپی یونین نے اپنے اس مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان بین الاقوامی معاہدوں کی پابندی کرے۔

جمعہ کو دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل نے صحافیوں کو بتایا کہ پاکستان کسی بھی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب نہیں ہو رہا۔

"پاکستان شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی میثاق کا رکن ہے اور اس میثاق کے آئین کی شق چھ یہ کہتی ہے کہ ہر انسان کو زندہ رہنے کا حق ہے اور اس حق کا قانون کے مطابق تحفظ کیا جائے کسی کو بھی بلا وجہ اس حق سے محروم نہ کیا جائے۔ اسی شق کی ذیلی شق دو کے مطابق جن ملکوں میں موت کی سزا کو ختم نہیں کیا گیا وہاں یہ سزا صرف قانون کے مطابق سنگین جرائم میں دی جاسکتی ہے۔"

جمعہ کو ہی وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے بھی پھانسیوں پر عملدرآمد سے متعلق کی جانے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دیگر ملکوں کو پاکستان کے آئین و قانون کا اسی طرح احترام کرنا چاہیے جس طرح پاکستان دوسرے ملکوں کے قانون کا کرتا ہے۔

"سزائے موت ہمارے قانون کا حصہ ہے، جب سے یہ بحال ہوئی ہیں ایک طوفان برپا ہے، میں اپنے دوست ممالک سے کہیوں گا کہ ہم آپ کے قانون کا احترام کرتے ہیں آپ ہمارے آئین و قانون کا احترام کریں۔"

گزشتہ دسمبر میں پھانسیوں پر عملدرآمد پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد شروع ہوا۔ اس حملے میں 134 بچوں سمیت 150 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور اسے ملکی تاریخ میں دہشت گردی کا بدترین واقعہ قرار دیا گیا۔

اولاً صرف دہشت گردی کے جرم میں موت کی سزا پانے والوں کو تختہ دار پر لٹکایا جاتا رہا لیکن بعد میں اس فیصلے کا اطلاق کسی بھی جرم میں سزائے موت کے مرتکب مجرموں تک بڑھا دیا گیا۔

ایک اندازے کے مطابق ملک کی مختلف جیلوں میں سزائے موت کے لگ بھگ آٹھ ہزار مجرم قید ہیں جن میں سے کئی دو دہائیوں سے اپنی تمام اپیلیں مسترد ہونے کے بعد سزا پر عملدرآمد کے منتظر ہیں۔

XS
SM
MD
LG