رسائی کے لنکس

بھارتی وزیر کا الزام 'بے بنیاد و بے سر و پا' ہے: پاکستان


تسنیم اسلم (فائل فوٹو)

تسنیم اسلم (فائل فوٹو)

ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ہر قسم کی دہشت گردی کا مخالف ہے اور ان کے بقول پاکستانی حکومت اور عوام دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔

پاکستان نے بھارتی وزیردفاع منوہر پاریکر کے اس الزام کو مسترد کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ ہفتے بھارتی سمندری حدود میں ایک پاکستانی کشتی گھس آئی تھی جس پر مشتبہ دہشت گرد سوار تھے۔

وزیر کا کہنا تھا کہ کشتی پر سوار افراد نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اسے دھماکے سے اڑا دیا تھا۔

تاہم منگل کو پاکستانی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں بھارت کے اس الزام کی سخت الفاظ میں تردید کرتے ہوئے کا کہا گیا کہ بھارتی وزیرکا دعویٰ سرار بے بنیاد اور بے سرو پا ہے۔

بیان میں ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ہر قسم کی دہشت گردی کا مخالف ہے اور ان کے بقول پاکستانی حکومت اور عوام دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستانی افواج دہشت گردی کے خلاف جامع اور بلا امتیاز کارروائیاں کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تسنیم اسلم نے متنازع علاقے کشمیر میں عارضی حدبندی اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فورسز کی مبینہ بلا اشتعال فائرنگ کی بھی مذمت کی۔

دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان حالیہ دنوں میں سرحد پر حالات ایک بار پھر کشیدہ ہیں اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر فائرنگ میں پہل کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔

پاکستانی فورسز نے پیر کو بھی یہ دعویٰ کیا تھا کہ ورکنگ باؤنڈری پر سرحد پار سے بھارتی فورسز نے بلااشتعال فائرنگ کی جس سے ایک خاتون سمیت چار افراد ہلاک ہوئے۔

بھارت کی طرف سے اس تازہ واقعے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا لیکن حکام حالیہ دنوں میں دونوں جانب ایسے واقعات میں تین سکیورٹی اہلکاروں سمیت کم ازکم نو افراد کے مارے جانے کا بتا چکے ہیں۔

پاکستان میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جعفر اقبال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں موجودہ صورتحال کو دونوں ملکوں اور خطے کے امن کے لیے مضر قرار دیا۔

"میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھارت کے لیے بھی اچھا نہیں، ایک مستحکم پاکستان بھارت کے بھی مفاد میں ہے نہ کہ جلتا ہوا سلگھتا ہوا پاکستان۔ میں سمجھتا ہوں کہ بھارت کو خاص طور پر وزیراعظم (نریندر مودی) کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔"

ادھر سرحدی واقعات کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے پر امریکہ نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG