رسائی کے لنکس

بھارتی بیان پاکستان کے معاملات میں مداخلت ہے: دفتر خارجہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

گلگت بلتستان میں اس سے قبل بھی انتخابات ہو چکے ہیں لیکن بھارت کی طرف سے اس تازہ مخالفت کو پاکستان میں حکومتی حلقے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے مخاصمت کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔

جنوبی ایشیا کی دو ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان حالیہ دنوں میں شروع ہونے والی دشنام ترازیوں کا سلسلہ جاری ہے اور اسی سلسلے میں سامنے آنے والے بھارتی عہدیدار کےبیان کو پاکستان نے اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔

بھارت کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے منگل کو ایک بیان میں گلگت بلتستان کو اپنے ملک کا حصہ قرار دیتے ہوئے وہاں قانون ساز اسمبلی کے آٹھ جون کو ہونے والے انتخابات پر اعتراض کیا تھا۔

بھارت گلگت بلتستان کو متنازع علاقے کشمیر کا حصہ تصور کرتا ہے۔ کشمیر 1947ء میں تقسیم ہند کے وقت سے ہی دونوں ملکوں کے درمیان متنازع چلا آرہا ہے اور اس کا ایک حصہ بھارت اور ایک پاکستان کے زیر انتظام ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا کہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر متنازع علاقہ ہے اور ان کے بقول بھارت کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے۔

پاکستان کا موقف ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔ لیکن بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔

بھارت کی طرف سے پاکستان پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ کشمیر میں علیحدگی پسندوں کی حمایت کر کے بدامنی پھیلا رہا ہے لیکن پاکستان اس دعوے کو مسترد کرتا آیا ہے۔

دنوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان تلخ بیان بازی کا نیا سلسلہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری کے منصوبے کے تناظر میں شروع ہوا جس کے بارے میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کہہ چکی ہیں کہ ان کے ملک کو یہ منصوبے کا وہ حصہ جو متنازع کشمیر سے گزرتا ہے، قابل قبول نہیں۔

پاکستانی قیادت کی طرف سے بھارت کے اس موقف پر بھی شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ منصوبہ خطے کے لیے سود مند ہے اور اس کی مخالفت سے بھارت کے پاکستان مخالف عزائم کھل کر سامنے آئے ہیں۔

گلگت بلتستان میں اس سے قبل بھی انتخابات ہو چکے ہیں لیکن بھارت کی طرف سے اس تازہ مخالفت کو پاکستان میں حکومتی حلقے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے مخاصمت کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔

پاکستان میں کشمیر کمیٹی کے رکن اور حکومتی رکنی قومی اسمبلی طاہر اقبال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا۔

"خود تو وہ (بھارت اپنے زیر انتظام کشمیر میں) الیکشن کرواتے رہے ہیں حکومتیں بناتے رہے ہیں، یہاں (گلگت بلتستان) پہلے بھی الیکشن ہوتے رہے ہیں اب صرف وجہ یہی ہے کہ ان کو یہ دکھ ہو رہا ہے کہ یہ 46 ارب ڈالر سرمایہ کاری کے لیے پاکستان کیوں آرہا ہے۔"

گلگت بلتستان کو 2009ء میں پاکستان نے اپنا ایک خودمختار علاقہ دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG