رسائی کے لنکس

پاناما کے نائب وزیر اور اسحق ڈار کی ملاقات کی تردید


وزیر خزانہ اسحٰق ڈار (فائل فوٹو)

وزیر خزانہ اسحٰق ڈار (فائل فوٹو)

آئیون زرک نے بھی ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا کہ ان کی ملاقات پاکستان کے وفاقی سیکرٹری خزانہ سے ہوئی تھی نہ کہ وزیر خزانہ سے۔

پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور پاناما کے نائب وزیر اقتصادیات کی ملاقات سے متعلق ہفتے کو سامنے آنے والی خبروں کے بعد ایک نیا تنازع پیدا ہو گیا ہے۔

یہ خبریں ایک ایسے وقت سامنے آئی جب پاکستان میں پاناما لیکس سے متعلق ایک تحقیقاتی کمشن بنانے کے معاملے پر حکومت اور حزب مخالف کے درمیان اختلافات جاری ہے۔

تاہم پاکستان کی وزارت خزانہ کے طرف سے جاری ایک بیان میں پاناما کے نائب وزیر آئیون زرک کے اس دعویٰ کو مسترد کر دیا گیا کہ واشنگٹن میں ان کی پاکستانی وزیر خزانہ سے ملاقات ہوئی تھی۔

پاناما کے نائب وزیر اقتصادیات نےامریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹریو میں اس ملاقات کا تذکرہ کیا تھا لیکن بعد ازاں انھوں نے بھی ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا کہ ان کی ملاقات پاکستان کے وفاقی سیکرٹری خزانہ سے ہوئی تھی نہ کہ وزیر خزانہ سے۔

اس معاملے پر پاکستانی ذرائع ابلاغ میں مزید قیاس آرائیوں نے جنم لیا تھا لیکن پاکستان کی وزارت خزانہ اور واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کی طرف سے اسحاق ڈار سے ملاقات کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا گیا۔

بیان کے مطابق یہ بات بے بنیاد اور انتہائی حیران کن ہی۔

وزارت کے ترجمان نے مزید کہا کہ وزیر خزانہ نے واشنگٹن ڈی سی کا اپنا دورہ منسوخ کر دیا تھا جہاں انھوں نے 14 سے 17 اپریل تک عالمی بینک اور عالمی مالیاتی ادارے کے اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔ "آئیون زرک کیسے وزیرخزانہ سے مل سکتے ہیں جب کہ اسحٰق ڈار گزشتہ کئی ہفتوں میں پاکستان سے باہر ہی نہیں گئے اور یہاں اپنے معمول کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔"

واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے اس اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی سیکرٹری خزانہ وقار مسعود خان کر رہے ہیں۔

ادھر اطلاعات کے مطابق پاکستان کے وزیر خزانہ نے ہفتے کو پاناما لیکس کے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک مجوزہ کمشن کے دائرہ کار کو حتمی شکل دے دی جبکہ حزب مخالف پہلے ہی وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے ایسے کسی کمشن کی تشکیل کو مسترد کر چکی ہے۔

حزب مخالف کی ایک بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایک غیر جانبدار انکوائری کمیشن تشکیل نا دینے کی صورت میں لاہور کے قریب رائیونڈ میں واقع نواز شریف کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج اور دھرنا دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔

سینیئر تجزیہ کار حسن عسکری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ تحقیقاتی کمیشن کے معاملے پرحکومت اور حزب مخالف کے اختلاف جاری رہتے ہیں تو یہ ملک میں غیر یقینی کی صورت حال کا باعث بنیں گے۔

" یہ حکومت اور حزب مخالف کے درمیان بد اعتمادی کا مظہر ہے ۔ اگر حزب مخالف ، حکومت کی مخالفت میں مظاہرے کرنے پر متفق ہو جاتی ہے تو اس صورت میں نواز شریف کی حکومت مشکلات کا شکار ہو جائے گی ورنہ شاید یہ اسی طرح چلتی رہے گی لیکن حکومت کو اپنی ساکھ کا مسئلہ تو درپیش ر ہے گا۔۔ایک غیر یقینی کا دور ہے جو اس وقت پاکستان میں شروع ہو رہا ہے"۔

حال ہی میں پاناما لیکس میں غیر ملکی اثاثے رکھنے والی جن شخصیات کے نام سامنے آئے تھے ان میں پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے نام بھی شامل ہیں اور اس معاملے کو لے کر پاکستان میں حزب مخالف نے حکومت اور وزیراعظم کے خلاف احتجاج شروع کر رکھا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ وزیراعظم کے بچوں کے کاروبار کا معاملہ ہے جو خود اس کا دفاع کر سکتے ہیں جبکہ حکومت کا اس معاملے سے تعلق نہ ہونے کے باوجود وہ اس بابت شفاف تحقیقات کے لیے پرعزم ہے۔

XS
SM
MD
LG