رسائی کے لنکس

پاکستان کے روس کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے ہیں: سرتاج عزیز


سینیٹر مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ حال ہی میں دونوں ملکوں کے درمیان دفاع کے شعبے میں تعاون میں بہتری آئی ہے۔

پاکستان میں کئی حلقوں بشمول بعض قانون دانوں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان قریبی تعلقات کے باعث پاکستان نئے اتحادیوں کی تلاش میں ہے جن میں روس بھی شامل ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے اُمور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ روس کے ساتھ تعلقات بہت بہتر ہو رہے ہیں۔

’’روس کے ساتھ ہمارے اقتصادی، دفاع اور سکیورٹی کے لحاظ سے تعلقات بہت بہتر ہو رہے ہیں، کافی رابطے ہیں، بہت سے دورے ہوئے ہیں اور آگے چل کر ان میں مزید اضافہ ہو گا۔‘‘

ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان حالیہ قربت سے قبل ہی پاکستان نے دیگر ممالک سے تعلقات کے امکانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا تھا۔

’’چین کے ساتھ ہمارے بڑے خصوصی تعلقات ہیں اور روس بھی پاکستان کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور دفاعی حوالے سے تعاون چاہتا ہے، اور حال ہی میں روس کے دفاع کے وزیر بھی پاکستان آئے تھے۔‘‘

سینیٹر مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ حال ہی دونوں ملکوں کے درمیان دفاع کے شعبے میں تعاون میں بہتری آئی ہے۔

’’یہ خوش آئند بات ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان 47 سال کے بعد وزارت دفاع کی طرف سے ایک تعاون کا آغاز ہوا ہے۔۔۔۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فوجی ہتھیار بیچنے کے حوالے سے روس نے جو رضا مندی ظاہر کی ہے، تو یہ روس کی سوچ میں بھی تبدیلی ہے اور پاکستان پہلے سے ہی چاہتا تھا کہ روس کے ساتھ ہمارا کوئی بنیادی تنازع یا اختلاف نہیں، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ تعاون بڑھایا جائے۔‘‘

واضح رہے کہ پاکستان امریکہ کا قریبی اتحادی ہے اور واشنگٹن کی طرف سے پاکستان کو نا صرف دہشت گردی کے خلاف اعانت فراہم کی جا رہی ہے بلکہ اقتصادی شعبوں میں بھی دوطرفہ تعاون میں اضافہ ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما کے حالیہ دورہ بھارت کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان قریبی اقتصادی تعاون سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے جمعرات کو کہا کہ وہ دو ملکوں کے درمیان تعاون پر تبصرہ نہیں کرنا چاہیں گی لیکن امریکہ پاکستان کا بڑا تجارتی شراکت دار اور سرمایہ کار ہے۔

تسنیم اسلم نے کہا کہ پاکستان کسی اور ملک کے اثر سے آزاد، اپنے طور پر امریکہ سے تعلقات استوار کیے ہوئے ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان باہمی احترام اور مفاد کی بنیاد پر امریکہ کے ساتھ تعلقات جاری رکھے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ اسی ماہ دونوں ملکوں کے درمیان طویل المدت شراکت داری کے اسٹریٹیجک مذاکرات کا ایک نیا دور ہوا، جس میں تعلیم اور سائنس کے شعبے میں تعاون کے لیے ایک نیا اضافہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ رواں ماہ امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

گزشتہ سال نومبر میں روس کے وزیر دفاع سرگئی شائیگو نے پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے کے ایک معاہدے پر دستخط بھی کیے گئے۔

پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس معاہدے کو دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا تھا۔

پاکستانی عہدیدار کہہ چکے ہیں کہ پاکستان روس کو عالمی سطح پر ایک اہم ملک تصور کرتا ہے اور اس خطے میں امن و استحکام میں بھی روس کا کردار ہے۔

XS
SM
MD
LG