رسائی کے لنکس

توہین رسالت قانون میں تبدیلی نہیں ہوگی، حکومتی یقین دہانیاں جاری

  • محمد سید

کراچی میں مذہبی جماعتوں کا مظاہرہ (فائل فوٹو)

کراچی میں مذہبی جماعتوں کا مظاہرہ (فائل فوٹو)

پاکستان کا متنازعہ ناموس رسالت کا قانون نومبر میں اُس وقت ایک بار پھر موضوع بحث بن گیا جب پنجاب کے ایک دور دراز دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والی عیسائی خاتون آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی ہے ۔ کسی خاتون کو ملک کے اس قانون کے تحت پہلی مرتبہ سزائے موت سنائی گئی ۔ اس مسیحی خاتون سے ملاقات اور قانون میں تبدیلیوں کی حمایت کرنے پر چار جنوری کو گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو اسلام آباد میں اُن کے اپنے ہی ایک سرکاری محافظ نے گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔

وفاقی حکومت کی دعوت پر منگل کو اسلام آباد میں”اسلام اور مذہبی رواداری“کے عنوان سے ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں پاکستان کے نامور علمائے دین اور مشائخ نے شرکت کی۔

توہین رسالت کے خلاف قانون میں مجوزہ تبدیلیوں کے خلاف ملک کی مذہبی جماعتیں حالیہ دنوں میں مسلسل احتجاجی مظاہرے کرتی آئی ہیں۔ ان میں کراچی میں ایک ہفتہ قبل منعقد کیے گئے جلسے میں پچاس ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی اور اپنی تقریروں میں قائدین نے حکومت پاکستان کو متبنہ کیا کہ وہ ناموس رسالت ایکٹ میں تبدیلی سے باز رہے۔

منگل کو اسلام آباد میں منعقد کیا جانے والا اجتماع بظاہر اسی دباؤ کا نتیجہ تھا تاکہ ملک بھر سے آئی ہوئی مذہبی شخصیات کو اس بات کی یقین دہانی کرائی جائے کہ حکومت ناموس رسالت ایکٹ میں کوئی ترمیم نہیں کررہی ہے۔
اسلام آباد: توہین رسالت قانون میں ترمیم کے خواہاں مظاہرین

اسلام آباد: توہین رسالت قانون میں ترمیم کے خواہاں مظاہرین

حالیہ دنوں میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کئی مواقعوں پر یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ اُن کی حکومت اس قانون میں تبدیلی کا ارادہ نہیں رکھتی اور منگل کو منعقد کیے گئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے شرکاء کو ایک بار پھر کہا کہ توہین رسالت کے خلاف قانون میں کسی طرح کی ترمیم نہیں کی جارہی بلکہ حکومت چاہتی ہے کہ اس کے غلط استعمال کو روکا جائے۔

”ہمارے کروڑوں مسلمان پوری دنیا میں رہتے ہیں اور جب یہاں ایک چھوٹا سا واقعہ ہوتا تو آپ کے بہن بھائی بچے جو ملک سے باہر ہیں اُن کا جینا دوبھر ہو جاتا ہے، اُن کی نوکریاں خطرے میں پڑ جاتی ہیں وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہ جاتے۔ ہم چاہتے ہیں اسلام کی حقیقی تشخص کو اُجاگر کریں“۔

کانفرنس میں شریک علما و مشائخ نے بھی کہا کہ وہ توہین رسالت کے خلاف قانون کے غلط استعمال کو روکنے کی حکومتی کوششوں میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بادشاہی مسجد لاہور کے امام مولانا عبدالخبیر آزاد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس قانون کو بالکل بدلا نہیں جا سکتا کیوں کہ اُن کے بقول یہ اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے بصورت دیگر توہین رسالت کے مرتکب کسی بھی فرد کے خلاف لوگ خود کارروائی کریں گے۔

مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ وزیراعظم کی طرف سے یہ اچھی کوشش ہے کہ علمائے اکرام اور تما م ادیان کے لوگوں کو بٹھا کر اس قانون کے غلط استعمال پر بات کی جائے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم عمل تنظیمیں اور اقلیتی عیسائی برادری طویل عرصے سے اس اسلامی قانون میں اصلاحات کا مطالبہ کرتی آئی ہے جب کہ بعض حلقے تو اس کی تنسیخ کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

غیر سرکاری تنظیم ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرپرسن ڈاکٹر مہدی حسن نے وائس آف امریکہ کوبتایا کہ جب سے ناموس رسالت ایکٹ بنا ہے پاکستان میں لگ بھگ ایک ہزار افراد پر توہین رسالت کے جرم میں مقدمات درج ہوئے ہیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ توہین رسالت کے جرم میں جن افراد کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے ہیں اُن میں سے زیادہ تر مسلمان ہیں۔ ڈاکٹر مہدی حسن نے بتایا کہ ایسے افراد جن پر توہین رسالت کا الزام تھا اُن میں سے 34 افراد پر قاتلانہ حملے کیے گئے جن میں ایک درجن سے زائد افراد مارے گئے۔ اُنھوں بتایا کہ قتل کیے جانے والے ان افراد میں سے کسی بھی شخص کو اس جرم میں موت کی سزا نہیں سنائی گئی تھی۔

ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا ہے کہ توہین رسالت کے خلاف قانون بننے سے قبل کسی بھی شخص پر یہ الزام نہیں لگا تھا کہ اُس نے پیغمبر اسلام کی توہین کی ہو۔ اُنھوں کہا کہ اتنی زیادہ تعداد میں مقدمات سامنے آنے کے بعد ضروری ہو گیا ہے کہ یہ جانا جائے کہ اس کی وجوہات کیا ہیں۔

پاکستان کا متنازعہ ناموس رسالت کا قانون نومبر میں اُس وقت ایک بار پھر موضوع بحث بن گیا جب پنجاب کے ایک دور دراز دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والی عیسائی خاتون آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی ہے ۔ کسی خاتون کو ملک کے اس قانون کے تحت پہلی مرتبہ سزائے موت سنائی گئی ۔ اس مسیحی خاتون سے ملاقات اور قانون میں تبدیلیوں کی حمایت کرنے پر چار جنوری کو گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو اسلام آباد میں اُن کے اپنے ہی ایک سرکاری محافظ نے گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG